The result of the Father's compassion and love

A person who works day and night to run a household for six people to feed six people. All day long, in the sun, in the cold, in the rain, whatever the weather, he continues to work. In fact, this story is not about one house or one brother, father, son, it is the story of every house, everyone's story. A father works day and night for the best future of his children without worrying about his life thinking that his hard work today will make a better future for his children tomorrow. Do the children understand this?






باپ کی شفقت اور محبت کا نتیجہ



وہ ایک شخص جو چھ لوگوں کے کھانے کے لیے چھ لوگوں کا گھر چلانے کے لیے دن رات محنت کرتا ہے۔ سارا دن دھوپ

 میں سخت سردی میں بارش میں موسم چاہے جیسا بھی ہو وہ کام کرتا رہتا ہے دراصل یہ کہانی ایک گھر کی یا ایک بھائی باپ

بیٹے کی نہیں ہے یہ ہر گھر کی کہانی ہے ہر ایک کی کہانی ہے۔ ایک باپ اپنی اولاد کے بہترین مستقبل کے لیے اپنی جان کی

 پرواہ کیے بغیر دن رات کام کرتا ہے یہ سوچ کر کے اس کی آج کی محنت کل اس کے بچوں کے لیے بہتر مستقبل بنا دے گا۔ کیا

 یہ بات اولاد سمجھتی ہے









Omama is the eldest daughter in her house. She was a very careless and selfish girl, but something happened that changed her. She is about twenty-two years old. She is no longer the same as she was. Now she had completely changed. She has become wise and quiet now, what happened that changed her so much, what happened in her life, why is she no longer the chattering, always-in-the-fun Omama, what changed her?




 


  


اومامہ اپنے گھر میں سب سے بڑی بیٹی ہے وہ بہت لاپرواہ اور خود پسند لڑکی تھی پر کچھ ایسا ہوا جس نے اس کو بدل کر رکھ

 دیا اس کی عمر تقریباً بائیس سال ہے وہ اب بلکل ویسی نہیں رہی جیسی وہ تھی۔ اب وہ بلکل بدل چکی تھی۔ وہ اب سمجھدار اور

 خاموش ہو گئی ہے آخر ایسا کیا ہوا جو وہ اتنا بدل گئی کیا ہوا اس کی زندگی میں ایسا وہ اب چہچہانے والی ہر وقت مستی میں

 رہنے والی اومامہ کیوں نہیں رہی اس کو کس چیز نے بدل کے رکھ دیا تھا۔









One day she was passing outside her parent's room when she heard some voices from inside, not knowing why she stopped there. Her father was talking to someone on the phone. He was saying that now they have no more money, Umama has also grown up, now she has to think about her marriage, now leave her life, they have been giving her money for the last sixteen years, now she has nothing to give, when Umama has done all this. Hearing that, the ground under her feet gave out, she quietly went into the room









 ایک دن وہ ایسے ہی اپنے والدین کے کمرے کے باہر سے گزر رہی تھی اندر سے کچھ آوازیں سنائی دیں نا چاہتے ہوئے بھی

 پتا نہیں کیوں وہ وہاں رک گئی اس کے والد فون پر کسی سے بات کر رہے تھے وہ کہ رہے تھے کہ اب ان کے پاس اور پیسے

 نہیں ہیں اومامہ بھی بڑی ہو گئی ہے اب اس کی شادی کا بھی سوچنا ہے اب ان کی جان چھوڑ دیں وہ انھیں پچھلے سولہ سال

 سے پیسے دے رہے ہیں اب ان کے پاس کچھ نہیں ہے دینے کو جب اومامہ نے یہ سب سنا تو اس کے پیروں تلے زمین نکل گئی

 وہ چپ چاپ کمرے میں چلی گئی








And she took out her laptop and started doing something on it. The whole night she was doing something on the laptop. As soon as morning came, she took permission from her father that she had to go somewhere and left. No one knows where she went. She sat in a car and got down in front of a big building. She went inside that building. And he asked a girl sitting on a corner which side of Sir Umar's office is, this girl pointed her finger and told him that she went there.









اور اپنا لیپٹوپ نکال کر اس پر کچھ کرنے لگی ساری رات وہ لیپٹوپ پر کچھ کرتی رہی جیسے ہی صبح ہوئی اپنے والد سے

 اجازت لی اس نے کہ اسے کہیں جانا ہے اور ہو چلی گئی۔ وہ جا کہاں رہی تھی آخر کسی کو نہیں پتا۔ وہ ایک گاڑی میں بیٹھی

 اور ایک بڑی سی عمارت کے سامنے اتر گئی وہ اس عمارت کے اندر گئی۔ اور ایک کونے پر بیٹھی لڑکی سے اس نے پوچھا

 سر عمر کا اوفس کس طرف ہے اس لڑکی نے انگلی کا اشارہ کرتے ہوئے اسے بتایا کہ اس طرف وہ وہاں گئی
















There was a knock on the door and a voice came from inside. She went inside. So, I was shocked, do you really want to work in our company? Yes, I want to work, but I will take the salary I want, there is no problem. Without thinking, Omar said yes.













دروازے پر دستک دی اور اندر سے آواز آئی آ جاو وہ اندر گئی دونوں نے سلام دعا کی اور پھر بات شروع ہوئی جی سر میں

 نے آپ کی کمپنی کے بارے میں بہت سوچا ہے اور میں آپ کہ کمپنی میں کام کرنے کے لیے تیار ہوں عمر تو جیسے چونک

 ہی گیا کیا واقعی آپ ہماری کمپنی میں کام کرنا چاہتی ہیں جی میں کام کرنا چاہتی ہوں مگر میں تنخواہ اپنہ مرضی کی لوں گی

 کوئی مسلہ نہیں سوچے سمجھے بغیر عمر نے ہاں کر دی۔ 

















What was the whole story? (Omamah was the only girl in the whole country who was in charge of (account's) who was very intelligent and hard working. Umar had been mailing her repeatedly for work for two years but she refused every time. But when she saw her father so helpless, that too in front of the person whom she hates so much, she wanted to get her father out of this torment in any way) Mir Khadim, this is her aunt Zaad Tha Umama's aunt had died in an accident and since then he ruled over Umama's father.


















 آخر یہ سارا ماجرا تھا کیا۔ (اومامہ پورے ملک میں (account's) میں ٹوپ کرنے والی واحد لڑکی تھی جو کہ بہت زیادہ زہین

 اور محنتی تھی عمر دو سال سے اس کو کام کے لیے بار بار میلز کر رہا تھا پر ہر بار ہی یہ انکار کر دیتی تھی وہ کام نہیں کرنا

 چاہتی تھی)  پر جب اس نے اپنے باپ کو اتنا بے بس دیکھا وہ بھی اس انسان کے آگے جس سے وہ شدید نفرت کرتی ہے تو وہ

 کسی بھی صورت میں اپنے باپ کو اس عزاب سے نکلوانا چاہتی تھی) میر خادم یہ اس کا تایا زاد تھا اومامہ کے تایا کی ایک

 حادثے میں موت کو گئی تھی اور اس کے بعد سے یہ ایسے اومامہ کے والد پر حکم چلاتا تھا 
















As if he is her uncle, not an employee, Umama could not bear all this anymore, so now she herself came to compete with Mir Khadim. She worked day and night in Omar's company and made a name for herself. He did a great and excellent job due to which she was no longer Umar's servant but his partner. First, she freed her family from Mir Khadim and brought them with her from Karachi to Lahore. worked hard and built a company which he named after his father















جیسے وہ اس کے چاچا نہیں کوئی ملازم ہوں ہر اب اومامہ سے یہ سب مزید برداشت نہیں ہو رہا تھا تو اب وہ خود میر خادم کے

 مقابلے پر آ گئ اس نے عمر کی کمپنی میں دن رات محنت کی اور ایک نام بنایا اس نے ایک بہت بڑا  اور بہترین کام کیا جس

 کی وجہ سے وہ اب عمر کی ملازم نہیں بلکہ اس کی پاٹنر بن چکی تھی سب سے پہلے اس نے میر خادم سے اپنے گھر والوں

 کو آزاد کروایا اور انھیں اپنے ساتھ کراچی سے لاہور لے آئی اس نے پانچ سال لگاتار محنت کی اور ایک کمپنی تیار کی جس کو

 اس نے اپنے والد کے نام پر رکھا























And he gave it to his parents. People can see where he is today, behind him is his father's whole life, no one can see, but Umama saw both that hard work and love, but it was late. He fulfilled every dream of his father. Today, his father was more happy about his success. The seed he sowed had become a tree today. Omama's hard work day and night had paid off and now. She was known as Johnny Money Businesswoman across the country



















اور وہ اس نے اپنے والدین کے نام کر دی۔ لوگوں کو آچ یہ  تو نظر آتا ہے کہ وہ آج کس مقام پر ہے ہر اس کے پیچھے اس کے

 باپ کی ساری زندگی کی، کی ہوئی محنت کسی کو نظر نہیں آتی پر اومامہ کو وہ محنت اور محبت دونوں نظر آئیں دیر سے ہی

 سہی پر اس نے اپنے والد کے ہر خواب کو پورا کر کے دیکھایا آج اس کی کامیابی پر اس سے زیادہ اس کے والد خوش تھے

 انھوں نے جو بیج بویا تھا آج وہ تناور درخت بن چکا تھا اومامہ کی دن رات کی محنت رنگ لے آئی تھی اور اب وہ پورے ملک

 میں جانی مانی بزنس ویمن کے نام سے جانی جاتی تھی















Umama had worked hard in this, but the biggest hand in his success was his father's. No matter how hard children try, they cannot become anything without their parents. May Allah keep all parents safe and bless them to see the happiness of their children and enable every child to fulfill the wishes of their parents. It is a fact that no matter how hard the children try, they cannot repay the favors done to their parents.
















اس میں اومامہ کی تو محنت تھی پر اس کی اس کامیابی میں سب سے بڑا ہاتھ اس کے والد کا تھا۔ اولاد چاہے جتنی بھی کوشش

 کر لے ماں باپ کے بغیر کچھ نہیں بن سکتی ﷲ سب کے والدین کو ہمیشہ سلامت رکھے اور ان کے بچوں کی خوشیاں دیکھنا

 نصیب کرے اور ہر اولاد کو اس قابل بناۓ کے وہ اپنے والدین کی خواہش کو پورا کر سکیں۔ یہ بات تو حقیقت ہے اولاد جتنی

 بھی کوشش کر لے لیکن ان کے ماں باپ کے لیے ہوۓ احسانوں کا بدلہ وہ کسی صورت نہیں اتار سکتی۔