Makafat is a reality
اسے اس بات کا خیال ہی نہیں رہا کہ بہن اس کے گھر بھی ہء بیٹی اس کی بھی ہو گی وہ تو سب اپنی جوانی کی شوخیوں میں اس
بات کو بھول گیا تھا کہ خدا کی لاٹھی بے آواز ہے مسی کو رولانے والے کسی روز خود بھی رو پڑتے ہیں وہ اس بات سے
بلکل غافل ہو چکا تھا کہ اس کا انجام کیا ہے اسے تو جیسے یہ بات بھی بھول گئی تھی کہ ایک زات ایسی بھی ہے جو اس کے
ہر عمل سے واقف ہے وہ سب دیکھ رہا ہے اور وہ خدا بار بار قرآن میں اپنے بندوں سے کہتا ہے اور وہ خدا کچھ نہیں بھولتا
اور بے شک ہمارا رب ایک ہے اور وہ پاک ہے وہ اپنے وعدوں کا بڑا پکا ہے
He does not forget anyone's good or bad, and at the appointed time, he will bring everyone to an end. Now he has destroyed someone's sister's life without any fear, but he has forgotten that mud is on someone. If it is thrown, its splashes will also fall on its feet. Now let's come to this stupid girl, oh sorry, what did she say to this wicked girl who is seduced by this pure boy, the most painful reality of our society. May the will be done
وہ کچھ نہیں بھولتا نہ کسی کی اچھائی نہ برائی اور مقررہ وقت پر وہ اب کو سب کے انجام تک پہنچاۓ گا ابھی تو وہ کسی کی
بہن کی زندگی اجاڑ آیا ہے کسی ڈر خوف کے بغیر پر وہ یہ بات بھول گیا ہے کہ کسی پر کیچڑ اچھالا جاۓ تو اس کے چھینٹے
اپنے دامن پر بھی لگ جاتے ہیں۔اب آتے ہیں اس بےوقوف لڑکی کے لیے اوہ سوری یہ کیا کہ دیا اس بدکردار لڑکی کی طرف
جو کہ اس پاکدامن لڑکے سے ڈسی گئی ہے ہمارے معاشرے کی سب سے گٹھیا حقیقت جو مرضی ہو جائے
No matter how a man is, he is pure and if a woman falls into the false ways of love, then no matter how pure she is, she is a sinner because she spoke to a man. But it does not mean that women are wicked and men are pure. Ayeza is the most lovely and youngest daughter in her house who is loved by everyone in the house. She is a student of medical last semester.
مرد جیسا بھی ہو وہ پاک ہے اور اگر عورت محبت کے جھوٹے لاروں میں آ جائے پھر چاہے وہ جتنی بھی پاکیزہ کیوں نہ ہو وہ
بدکردار کیونکہ اس نے ایک مرد سے بات کی میں مانتی ہوں عورت بہت نازک ہوتی ہے انتہائی نرم دل کسی کی باتوں پہ آرام
سے یقین کر لیتی ہے مگر اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں کہ عورت بدکردار ہے اور مرد پاکیزہ۔ عائزا اپنے گھر میں سب سے
لاڈلی اور چھوٹی بیٹی جس سے سب گھر میں بہت پیار کرتے ہیں میڈیکل لاسٹ سیمیسٹر کی طالبہ انتہائی پڑی لکھی اور
سمجھدار ہمیشہ جماعت میں اول آنے والی کسی کا برا نا چاہنے والی اعلیٰ اخلاق کی اچھی بچی
She was loved by her family and friends. She was passing by one day. A boy on the street misbehaved with her. He brings his parents to her house to ask for her hand in marriage. The boy is from a good family. Ayeza says that the family settles his relationship. The boy's name is Hamza and he is also a good boy. gets engaged, now they start talking, Aiza also shares her pictures with him.
گھر والے اس سے بہت محبت کرتے تھے دوستوں کی تو جان تھی وہ ایک دن گزر رہی ہوتی ہے سڑک پر لڑکا اس سے
بدتمیزی کرتا ہے جس کا جواب وہ اسے تپھر سے دیتی ہے اور گھر آ جاتی ہے کچھ دن بعد اس کی یونیورسٹی کا لڑکا ہی اس
کے گھر اپنے والدین کو اس کا ہاتھ مانگنے کے لیے لے کر آتا ہے لڑکا اچھے خاندان کا ہوتا ہے عائزا کہ گھر والے اس کا
رشتہ طے کر دیتے ہیں لڑکے کا نام ہمزہ ہے اور وہ بھی اچھا لڑکا ہے کچھ دن میں ان دونوں کی منگنی ہو جاتی ہے اب ان میں
باتیں بھی شروع ہو جاتی ہیں عائزا اس کے ساتھ اپنی تصویریں وغیرہ بھی شیر کر دیتی ہے
After such an engagement, months pass with Kotch, they both start meeting, now Hamza has at least more than a thousand pictures of Ayeza, now he comes to her house one day and in front of everyone. He takes off the engagement ring and throws it away and says he doesn't want to be in this relationship anymore. Everyone is shocked as to why this happened. Ayeza is devastated. He was the first boy to come into her life, he was the only one. There was a boy whom he had blindly trusted
ایسے ہی منگنی کو کوتچھ سے ساتھ ماہ گزر جاتے ہیں ان دونوں کی ملاقاتیں بھی شروع ہو جاتی ہیں اب ہمزہ کے پاس عائزا
کی کم سے کم ہزار سے زیادہ تصویریں ہوتی ہیں اب وہ ایک دن اس کے گھر آتا ہے اور سب کے سامنے اس کی منگنی کی
انگوٹھی اتار کر پھینک دیتا ہے اور کہتا ہے وہ اب مزید اس رشتے میں نہیں رہنا چاہتا سب کو بہت سدمہ پہنچتا ہے کہ آخر
کیوں ایسا کیوں ہوا عائزا ٹوٹ کر رہ جاتی ہے وہ اس کی زندگی میں آنے والا پہلا لڑکا تھا وہ واحد لڑکا تھا جس پر اس نے اندھا
اعتبار کیا تھا
She doesn't understand what happened that he broke off the engagement. After a few days, Ayeza is using the same mobile phone. By the time those pictures of her are spread all over the world, there is nothing like that in the pictures, but these are all the pictures that Faiza sent to Hamza, all her family members encourage her and her brothers tell her that Don't worry, we do something, his family trusts him, but now the whole world loses his trust. After a while, the phone rings.
وہ فون اٹھاتی ہے اور فون اٹھاتے ہی دوسری طرف سے آواز آتی ہے یاد ہے تم نے بیچ سڑک پر میرے منہ پر تپھر مارا تھا جاؤ
آج میرا بدلا پورا ہوا اس کی روح کامپ سی جاتی ہے اسے اب ساری بات کی سمجھ آتی ہے کی ہمزہ اور وہ لڑکا جس کو عائزا
نے تپھر مارا تھا اس کا نام عمران ہے وہ دونوں آپس میں ملے ہوئے تھے اور یہ ساری ایک گیم تھی جو کہ اس سے بدلہ لینے
کے لیے کھیلی گئی تھی وہ یہ ساری بات اپنے والد اور بھائیوں کو بتاتی ہے اس کے بھائی ہمزہ کو ڈھونڈ کر اس کو عمر قید کی
سزا کرواتے ہیں اب عائزا چاہ کر بھی کبھی کسی کا اعتبار نہیں کر سکتی
She picks up the phone and as soon as she picks up the phone, a voice comes from the other side. I remember you slapped me on the face in the middle of the road. Today, my change is complete. Her soul is shaken. Now she understands the whole thing, Hamza. And the boy who was slapped by Ayeza is called Imran, they were dating and it was all a game played to take revenge from him. She tells all this to her father and brothers. Her brothers find Hamza and sentence him to life imprisonment. Now Ayeza can never trust anyone even if she wants to.
وہ اس بات کو سمجھ نہیں پاتی کہ آخر ایسا کیا ہوا کہ وہ منگنی توڑ کر چلا گیا کچھ دن کے بعد عائزا ایسے ہی موبائل چلا رہی
ہوتی ہے اس کی سہیلی اسے کچھ تصویریں بھیجتی ہے جسے دیکھتے ہی عائزا زور زور سے چیخنے لگتی ہے اس وقت اس
کی وہ تصویریں پوری دنیا میں پھیل چکی ہوتی ہیں تصویروں میں ایسا کچھ نہیں ہوتا پر یہ ساری وہ تصویریں ہوتی ہیں جو
فائزا نے ہمزہ کو بھیجی ہوتی ہیں اس کے سارے گھر والے اسے حوصلہ دیتے ہیں اور اس کے بھائی اسے کہتے ہیں کہ تم
پریشان نہ یو ہم کچھ کرتے ہیں اس کے گھر والوں کو تو اس پہ اعتبار ہے پر اب اس کا ساری دنیا سے اعتبار اٹھ جاتا ہے کچھ
دیر بعد فون بجتا ہے کسی نمبر سے فون آ رہا ہوتا ہے
She picks up the phone and as soon as she picks up the phone, a voice comes from the other side. I remember you slapped me on the face in the middle of the road. Today, my change is complete. Her soul is shaken. Now she understands the whole thing, Hamza. And the boy who was slapped by Ayeza is called Imran, they were dating and it was all a game played to take revenge from him. She tells all this to her father and brothers. Her brother finds Hamza and sentences him to life imprisonment. Now Ayeza can never trust anyone even if she wants to. And everyone gets busy in their own life, Aiza also forgets all this and gets busy in her own life
وہ فون اٹھاتی ہے اور فون اٹھاتے ہی دوسری طرف سے آواز آتی ہے یاد ہے تم نے بیچ سڑک پر میرے منہ پر تپھر مارا تھا
جاؤ آج میرا بدلا پورا ہوا اس کی روح کامپ سی جاتی ہے اسے اب ساری بات کی سمجھ آتی ہے کی ہمزہ اور وہ لڑکا جس کو
عائزا نے تپھر مارا تھا اس کا نام عمران ہے وہ دونوں آپس میں ملے ہوئے تھے اور یہ ساری ایک گیم تھی جو کہ اس سے بدلہ
لینے کے لیے کھیلی گئی تھی وہ یہ ساری بات اپنے والد اور بھائیوں کو بتاتی ہے اس کے بھائی ہمزہ کو ڈھونڈ کر اس کو عمر
قید کی سزا کرواتے ہیں اب عائزا چاہ کر بھی کبھی کسی کا اعتبار نہیں کر سکتی اس کا مرد زاد سے ہی اعتبار اٹھ گیا ہوتا ہے
پانچ سے چھ سال بعد یہ واقعہ سب کو بھول جاتا ہے اور سب اپنی اپنی زندگی میں مصروف ہو جاتے ہیں عائزا بھی اس سب کو
بھول کر اپنی زندگی میں مصروف ہو جاتی ہے
One day she is going back home after doing her duty from the hospital, she sees Imran on the way. His condition was like a pauper, with broken shoes and torn clothes, begging on the road. For a moment, Ayeza was shocked, but then she went forward without thinking about it, her friend who told her all this. Today, after a period, she came to meet Aiza. Her relationship was settled. She came to invite Aiza to marry. They were both sitting and talking, so Aiza's friend asked her to talk about something alone. Both go to Ayeza's room, her friend closes the door of the room
ایک دن وہ ہسپتال سے اپنہ ڈیوٹی کر کے واپس گھر جا رہی ہوتی ہے رستے میں اسے عمران نظر آتا ہے۔ اس کی حالت فقیر
جیسی پاؤں میں ٹوٹا ہوا جوتا اور پھٹے ہوئے کپڑے پہنے سڑک پر بھیگ مانگ رہا تھا ایک پل کے لیے تو عائزا چونک سی
گئی پر پھر وہ آگے بھر گئی بغیر کچھ بھی سوچے اس کی وہی سہیلی جس نے اسے یہ سب بتایا تھا آج ایک مدت کے بعد عائزا
سے ملنے آئی اس کا رشتہ طے ہو گیا تھا وہ عائزا کو شادی کی دعوت دینے آئی تھی وہ دونوں سب بڑوں میں بیٹھے باتیں کر
رہے تھے تو عائزا کی دوست اسے اکیلے میں کچھ بات کرنے کا کہتی ہے وہ دونوں عائزا کے کمرے میں جاتے ہیں اس کی
سہیلی کمرے کا دروازہ بند کرتی ہے
Holding Ayeza's hand, she says, "I want to tell you something. You believed in Allah and left everything to Allah. Allah did not leave you alone. He has replaced you. What are you saying? Imran Aiza gets shocked even by her name, I don't want to talk about her and why has she come to talk to me about her after so many years. No, I have come to tell you about Allah's justice. I don't understand. Three years ago, his mother died, due to which his condition became poor.
عائزا کا ہاتھ تھامتے ہوۓ کہتی ہے میں تمھیں کچھ بتانا چاہتی ہوں تم نے ﷲ پہ یقین رکھا اور سب کچھ ﷲ پہ چھوڑ دیا ﷲ نے
تمھیں اکیلا نہیں چھوڑا اس نے تمھارا بدلا لے لیا ہے کیا کہ رہی ہو میری کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا عمران عائزا اس کے نام
سے بھی کامپ جاتی ہے میں اا کے بارے میں بات نہیں کرنا چاہتی اور کیا تن اتنے سالوں کے بعد مجھ سے اس کی بات کرنے
آئی ہو۔ نہیں میں تمھیں ﷲ کے انصاف کا بتانے آئی ہوں میں سمجھی نہیں تین سال پہلے اس کی ماں کا انتقال ہو گیا جس کی
وجہ سے اس کا حال بے حال ہو گیا
He had settled the relationship of his younger sister in a good house, that girl did not like the boy, she ran away with someone else on the wedding night, Imran chased her a lot but she was nowhere to be found, after some time he came to know. Millie's boyfriend brutally killed her ever since then he's been looking for you like crazy, he wants to apologize to you for what he did.
اس نے چھوٹی بہن کا رشتہ اس نے ایک اچھے گھر میں طے کیا تھا وہ لڑکی اس لڑکے کو پسند نہیں کرتی تھی وہ شادی والی
رات کسی اور کے ساتھ بھاگ گئی عمران نے اسے بہت ڈھونا پر وہ کہیں نہ ملی کچھ عرصے کے بعد اسے خبر ملی کے اس
لڑکے نے اسے بری بے دردی سے مار دیا ہے تب سے وہ پاگلوں کی طرح تمھیں ڈھونڈ رہا ہے وہ تم سے اپنے کیے کی معافی
مانگنا چاہتا ہے
She has been punished for what she did. She is listening to all this silently and after all this she looks at the sky and says, "Oh Lord, I have seen your justice today. Indeed, you do not leave your servants alone and you do not leave your servants alone. She turns towards her friend and says I forgive him.
اس کے کیے کی سزا مل گئی ہے وہ خاموشی سے یہ سب سن رہی ہوتی ہے اور اس سب کے بعد وہ آسمان کی طرف دیکھتے
ہوئے کہتی ہے واہ رب میں نے آج تیرا انصاف دیکھ لیا بے شک تو اپنے بندوں کو اکیلا نہیں چھوڑتا اور اپنی سہیلی کی طرف
رخ کرتے ہوئے کہتی ہے میں نے معاف کیا اسے۔
0 Comments