Princess of Salt

Long ago there lived a king in a country and he had three daughters. He loved his youngest daughter very much. He loved her the most. And his two elder sisters did not like this at all. He was very angry that why the king loves her the most when she is even more cute and older than him. The two eldest daughters of the king treated their youngest sister very badly.



نمک کی شہزادی

بہت عرصے پہلے کی بات ہے کسی ملک میں ایک بادشاہ رہتا تھا اور اس کی تین بیٹیاں تھیں وہ اپنی سب سے چھوٹی بیٹی سے

 بہت محبت کرتا تھا وہ اس سے سب سے زیادہ محبت کرتا تھا۔ اور یہ بات اس کی دو بڑی بہنوں کو بلکل پسند نہیں تھی۔ اس بات

 سے انھیں بہت غصہ آتا تھا کہ بادشاہ اس سے ہی کیوں سب سے زیادہ محبت کرتا ہے جب کہ وہ اس سے بھی زیادہ پیاری اور

 بڑی ہیں۔ بادشاہ کی دونوں بڑی بیٹیاں اپنی سب سے چھوٹی بہن سے بہت بری طرح سے پیش آتی تھیں۔




But she did not say anything and because they were older, she respected them. One day, the king called his three daughters and asked the eldest daughter, "Daughter, tell me how much you love me." I love you more than diamonds. She also asked the same question to the other daughter, "Baba Jaan, I love you more than diamonds and jewels."




پر وہ کچھ نہیں کہتی تھی اور وہ بڑے ہیں اس لیے ان کا احترام کرتی تھی ایک دن بادشاہ نے اپنی تینوں بیٹیوں کو بلایا اور س

 سے بڑی والی بیٹی سے سوال کیا کہ بیٹی بتاؤ تم مجھ سے کتنی محبت کرتی وہ کہنے لگی بابا جان میں آپ سے ہیرے جوہرات

 سے بھی زیادہ محبت کرتی ہوں۔ دوسری بیٹی سے بھی یہی سوال پوچھا اس نے بھی کیا بابا جان میں آپ سے ہیرے جواہرات

 سے بھی زیادہ محبت کرتی ہوں۔



He asked the same question to his youngest and lovely daughter, and she replied, "Baba Jan, I love you as much as salt." All the people sitting there laughed at her answer. He asked the three to go in. His sisters were also laughing at him, but he didn't care. No one saw the details behind his answer and started making fun of him.



 اس نے یہی سوال اپنی سب سے چھوٹی اور لاڈلی بیٹی سے پوچھا تو اس نے جواب دیا کہ بابا جان میں آپ سے نمک جتنا پیار

 کرتی ہوں وہاں بیٹھے تمام لوگ اس کے اس جواب پر ہنس پڑے بادشاہ کو اس بات پر بہت غصہ آیا اور ان تینوں کو اس نے

 اندر جانے کے لیے کہا اس کی بہنیں بھی اس پر ہنس رہی تھیں پر اسے کوئی فرق نہیں پر رہا تھا اس کے اس جواب کے

 پیچھے کیا تفصیل تھی اس بات کو کسی نے نہیں دیکھا اور اس کا مزاق اڑانے لگے۔




She listened quietly to everyone and did not answer anyone wrongly. After a few days she was very fed up with all this and told the king that she wanted to live among the common people for a few days. The king was also very good and loved his subjects very much. Because of this, his people never suffered. He lets his daughter go, but he still has the same question in his mind as to why Princess Bey did this to love him so much.



وہ خاموشی سے سب کی باتیں سنتی رہی اور اس نے کسی کو کوئی غلط جواب نہیں دیا۔ کچھ دن بعد وہ اس سب سے بہت زیادہ

 تنگ آ چکی تھی اس نے بادشاہ سے کہا کہ وہ کچھ دن کے لیے عام لوگوں میں عام لوگوں کے ساتھ رہنا چاہتی ہے بادشاہ بھی

 بہت نیک تھا اور  اپنی رعایہ سے بہت پیار کرتا تھا ان کا بہت خیال رکھتا تھا اس کی وجہ سے اس کی عوام کبھی تکلیف میں

 نہیں آئی۔ وہ اپنی بیٹی کو جانے کی اجازت دے دیتا ہے پر اس کے زہن میں ابھی بھی وہی سوال ہوتا ہے کہ آخر شہزادی بے

 ایسا کیوں کیا کہ وہ اس سے نمک جتنا پیار کرتی یے




He wanted to ask this question to the princess but could not ask it and she left and took shelter in an old man's house. He did not tell her that she was a princess and started living peacefully with her. She was also happy that she got rid of him for some time but the king was missing her very much and he was missing her very much. All the people were very worried about this




وہ یہ سوال شہزادی سے پوچھنا چاہتا تھا پر نہیں پوچھ پایا اور وہ شہزادی چلی گئی اس نے ایک بڑھیا کے گھر میں پناہ لی اس

 نے اسے یہ نہیں بتایا کہ وہ شہزادی ہے اور اس کے ساتھ سکون سے زندگی گزارنے لگی ادھر اس کی بڑی بہنیں بھی خوش

 تھیں کہ اس سے کچھ عرصے کے لیے جان چھوٹ گئی ہے پر بادشاہ کو اس کی کمی بہت محسوس ہو رہی تھی اور وہ اسے

 بہت زیادہ یاد کر رہا تھا ایک دم سے پورے ملک میں ایسا کچھ ہوا کہ ہر طرف سے نمک ختم ہو گیا اس سب سے تمام لوگ بے

 حد پریشان تھے



Shizadi did not know that the king had a disease, because she was not in the palace. Tried to find a lot but the salt was nowhere to be found. The king said to call the princess back.



بادشاہ کو ایک بیماری ہو گئی تھی اس بات کی خبر نہیں تھی شیزادی کو کیونکہ وہ محل میں تھی ہی نہیں اسے کیسے پتا چلتا اس

 بات کا حکیم نے بادشاہ کی بیماری کے علاج کے لیے جن چیزوں کا بتایا ان میں سے ایک نمک تھا سب نے بہت ڈھونڈنے کی

 کوشش کی پر نمک کہیں نہ ملا بادشاہ نے کہا کہ شہزادی کو واپس بلاؤ شہزادی کو واپس بلایا گیا شہزادی آئی اس کے پاس

 تھوڑا سا نمک موجود تھا جو کہ اس نے محل سے جاتے ہوۓ اپنے پاس رکھا تھا




And after some time the king became completely well then he asked his daughter why you told me that you love me as much as salt. She smiled and said because diamonds are important gems. but not everyone can get it. Salt is available everywhere and without it our food and many things of life cannot be done. Likewise, I have not lived without you. i love you.



اور کچھ عرصے میں بادشاہ بلکل تندرست ہو گیا پھر اس نے اپنی بیٹی سے پوچھا کہ تم نے مجھے ایسا کیوں کہا کہ تمجھ سے

 نمک جتنا پیار کرتی ہو۔ وہ مسکرائی اور بولی کیونکہ ہیرے جواہرات اہم۔ ہوں گے پر وہ ہر کوئی حاصل نہیں کر سکتا نمک ہر

 جگہ حاصل ہے اور اس کے بغیر ہمارا کھانا اور زندگی کے بہت سے معملات نہیں چل سکتے ایسے ہی میرا آپ کے بغیر

 گزارا نہیں ہے میں نے اس لیے بولا کہ میں آپ سے نمک جتنا پیار کرتی ہوں 



Apparently, it is nothing, but without it, what is the situation of all of us at this time. The king liked this princess very much and he chose her as the next ruler because she is the owner of an excellent chosh and no one can rule the country with such wisdom and wisdom today the king once again. I was very proud to have my daughter.



بظاہر تو یہ کچھ بھی نہیں ہے پر اس کے بغیر اس وقت ہم سب کا کیا حال ہو گیا ہے۔ بادشاہ کو شہزادی کی یہ بات بہت پسند آئی

 اور اس نے آنے والے حکمران کے لیے اسے چنا کیونکہ وہ ایک بہترین چوش کی مالک ہے اور اس سے بہتر بادشاہ کے باد

 کوئی اتنی حکمت اور دانائی سے ملک نہیں چلا سکتا آج بادشاہ کو ایک بار پھر اپنی بیٹی کے ہونے پر بہت فخر محسوس ہوا۔