Just expressing love is not proving love


"If you call me brother one more time, I will kill you," said Subhan looking at Khadija very angrily. She was stealing him, I will tell you, what will you do? I will take your life. I am not ashamed of you. . Subhan likes Khadija, she lived in his neighborhood, they were good friends



صرف اظہار کرنا محبت نہیں ثابت کرنا محبت ہے


اگر تم نے ایک بار اور مجھے بھائی کہ کر پکارا تو میں تمھاری جان لے لوں گا سبحان نے بہت غصے سے خدیجہ کی طرف

 دیکھتے ہوئے کہا۔ وہ اسے چرا رہی تھی میں تو بولوں گی کیا کر لو گے تمھاری جان لے لوں گا میں تمھیں شرم نہیں آتی ہے

 میں محبے کرتا ہوں تم سے ہاں معلوم ہے مجھے بھائیوں والی وہ یہ کہ کر وہاں سے بھاگ جاتی ہے سبحان مزید چر جاتا ہے۔

 سبحان خدیجہ کو پسند کرتا ہے یہ اس کے ہمسایہ میں ہی رہتی تھی یہ دونوں اچھے دوست تھے 





Khadija knew that Subhan was madly in love with her but she didn't want to believe it. There was a boy who is now her past. He left her. She had become convinced that there is love. This was the reason why she did not want to grow more than friendship with Subhan. Subhan had been telling her this continuously for almost 2 years. He loves her very much





خدیجہ یہ بات جانتی تھی کہ سبحان اس سے جنون کی حد تک عشق کرتا ہے پر وہ بات ماننا نہیں چاہتی تھی ایک لڑکا تھا جو کہ

 اب اس کا ماضی بن چکا ہے وہ اس سے پیار کرتی تھی پر اس نے اس کے ساتھ دھوکہ کیا اور اسے چھوڑ کر چلا گیا اس کا

 اس بات سے یقین اٹھ چکا تھا کہ محبت ہوتی بھی ہے یہ وجہ تھی جس کی وجہ سے وہ سبحان سے دوستی سے زیادہ نہیں بڑھنا

 چاہتی تھی سبحان اسے یہ بات تقریباً ۲ سال سے لگاتار بتاۓ جا رہا تھا کہ وہ اس سے بہت عشق کرتا ہے




His love is increasing but he used to have only one answer, you need treatment, he used to say love is an incurable disease and she used to smile at him. Khadija was not wrong, he cheated in the name of love. Chiki was now afraid of him. She couldn't trust anyone like that anymore. And she was also afraid that she might not lose a best friend. With time, Subhan's love was filling up and the only cure for this disease was Khadija. But to Khadija, this was unacceptable in any situation.




اس کا عشق مزید بڑھتا جا رہا ہے پر اس کا ایک ہی جواب ہوتا تھا تمھیں علاج کی ضرورت ہے وہ کہتا تھا عشق لاعلاج مرض

 ہے اور وہ اس کی اس بات پر مسکرا دیتی تھی خدیجہ غلط نہیں تھی وہ پہلے محبت کے نام پر دھوکا کھا چکی تھی اب اس کا

 ڈر بجا تھا۔ وہ اب کسی پر بھی اس طرح سے یقین نہیں کر سکتی تھی۔ اور وہ اس بات سے بھی ڈرتی تھی کہ کہیں وہ ایک

 بہترین دوست کو نہ کھو دے وقت کے ساتھ ساتھ سبحان کی محبت بھرتی جا رہی تھی اور اس مرض کی دوا بس خدیجہ تھی۔ پر

 خدیجہ کو تو یہ بات جیسے ہر حال میں ناقابلِ قبول تھی۔




Khadija also began to love Subhan at some point, but she did not express it to him for fear that if she expressed it, Subhan's love might not decrease for her. She did not express her love. Subhan's Gujjar people did not like their friendship at all. They were very worried about their friendship. They did not want Subhan to be friends with any girl and Subhan was not ready to leave Khadija in any hall.





خدیجہ بھی کہیں نہ کہیں سبحان سے محبت کرنے لگی تھی پر وہ اس ڈر سے اس سے اظہار نہیں کرتی تھی کہ اگر اس نے

 اظہار کیا تو کہیں سبحان کی محبت اس کے لیے کم نہ ہو جائے۔وہ بس اس ڈر کی وجہ سے کبھی بھی اپنے پیار کا اظہار نہیں

 کرتی تھی۔ ان کی دوستی سبحان کے گجر والوں کو بلکل پسند نہیں تھی وہ ان دونوں کی دوستی سے بےحد پریشان تھے وہ نہیں

 چاہتے تھے کہ سبحان کی کسی لڑکی سے دوستی ہو اور سبحان کسی بھی ہال میں خدیجہ کو چھوڑنے کو تیار نہ تھا۔





His family blamed Khadija very wrongly. Subhan left home in anger. He did not even contact Khadija and no one knew where he had gone. When Khadija came to know about this, she was very worried. She looked for Subhan a lot, but she could not find him. Now she realized the intensity of her love for him. He realized today that why he used to do that, that love is an incurable disease, Khadija was blaming herself for all this, that if she had believed in his love, today he would not have gone anywhere fighting everyone like this. Khadija finds Subhan





اس کے گھر والوں نے خدیجہ کو بہت غلط الزام دیے سبحان نے غصے میں گھر چھوڑ دیا اس نے خدیجہ سے بھی رابطہ نہی

 کیا اور کسی کو نہیں معلوم تھا کہ وہ کہاں چلا گیا ہے۔ خدیجہ کو جب یہ بات پتا چلی تو وہ بہت پریشان ہوئی اس نے سبحان کو

 بہت ڈھونڈا پر وہ اس کا پتا نہ لگا سکی اب اسے اس سے محبت کی شدت کا احساس ہوا۔ اسے آج معلوم ہوا کہ وہ کیوں کیتا تھا

 کہ محبت ایک لا علاج مرض ہے خدیجہ خود کو اس سب کے لیے قصور وار ٹھرا رہی تھی کہ اگر وہ اس کی محبت کا یقین کر

 لیتی تو آج وہ اس طرح سب سے لڑ کر کہیں نہ جاتا خدیجہ سبحان کو ڈھونڈ ہی لیتی ہے




His family blamed Khadija very wrongly. Subhan left home in anger. He did not even contact Khadija and no one knew where he had gone. When Khadija came to know about this, she was very worried. She looked for Subhan a lot, but she could not find him. Now she realized the intensity of her love for him. He realized today that why he used to do that, that love is an incurable disease, Khadija was blaming herself for all this, that if she had believed in his love, today he would not have gone anywhere fighting everyone like this. Khadija finds Subhan






اس کے گھر والوں نے خدیجہ کو بہت غلط الزام دیے سبحان نے غصے میں گھر چھوڑ دیا اس نے خدیجہ سے بھی رابطہ نہیں

 کیا اور کسی کو نہیں معلوم تھا کہ وہ کہاں چلا گیا ہے۔ خدیجہ کو جب یہ بات پتا چلی تو وہ بہت پریشان ہوئی اس نے سبحان کو

 بہت ڈھونڈا پر وہ اس کا پتا نہ لگا سکی اب اسے اس سے محبت کی شدت کا احساس ہوا۔ اسے آج معلوم ہوا کہ وہ کیوں کیتا تھا

 کہ محبت ایک لا علاج مرض ہے خدیجہ خود کو اس سب کے لیے قصور وار ٹھرا رہی تھی کہ اگر وہ اس کی محبت کا یقین کر

 لیتی تو آج وہ اس طرح سب سے لڑ کر کہیں نہ جاتا خدیجہ سبحان کو ڈھونڈ ہی لیتی ہے




And today she expresses her love for him. Subhan is very happy. He is happy that his patience has paid off. Today, the girl is forced to love him whom she has been in love with for so long. . Subhan pays his respects and convinces everyone for their marriage. They both get married and Subhan proves that every man is not the same. Nothing bad is remembered




اور آج وہ اس سے محبت کا اظہار کر دیتی ہے سبحان بہت خوش ہوتا ہے وہ خوش ہوتا ہے کہ اس کا صبر رنگ لے آیا ہے وہ

 لڑکی آج اس سے محبت کرنے پر مجبور ہو گئی ہے جس کی محبت میں وہ کتنے عرصے سے مبتلا ہے۔ سبحان محبت کا حق

 ادا کرتا ہے اور سب کو ان کی شادی کے لیے راضی کرتا ہے وہ دونوں شادی کرتے ہیں اور سبحان یہ بات ثابت کرتا ہے کہ ہر

 مرد ایک سا نہیں ہوتا وہ اسے اتنی عزت اور اتنی محبت دیتا ہے کہ اسے ماضی کی کوئی بری بات یاد ہی نہیں رہتی






He truly puts his love first and ranks it to the level that a lover should, with his sincere love and respect, he makes a place in Khadija's heart that is Khadija's in his heart. Love is an incurable disease until you find your loved one. Finding it is not love. It is real love. And this Subhan has proved that he accepts Khadija with a sincere heart and loves her. I spend all my life.





وہ واقعی اپنے عشق کو اول کرتا ہے اور اسے اس مقام تک درجہ دیتا ہے جو کہ کر محبت کرنے والے کو دینا چاہیے وہ اپنے

 خلوص محبت اور عزت سے خدیجہ کے دل میں وہ جگہ بنا لیتا ہے جو اس کے دل میں خدیجہ کی ہے۔محبت ایک لا علاج

 مرض تب تک ہے جب تک آپ کو اپنا محبوب نہ مل جائے پا لینا ہی محبت نہیں ہوتی اسے نبھانا اصل محبت ہے اور یہ بات

 سبحان نے ثابت کی ہے کہ وہ خدیجہ کو سچے دل سے قبول کرتا ہے اور اس سے محبت میں ساری زندگی گزار دیتا ہے۔