Faith and love
She sat on Janmaaz and looked down for a long time and suddenly she started crying, she was just crying, she was not saying anything, she was not daring to say anything, she was just crying with tears in her eyes. Her helplessness was being expressed. She was so helpless that she did not understand anything. She was just crying silently.
یقین اور محبت
وہ جانماز پر بیٹھی پہلے ےو بہت دیر تک نیچے دیکھتے رہی اور ایک دم سے زارو کتار رونے لگی وہ بس روئی جا رہی تھی
نہ کچھ بول رہی تھی نا کچھ کہنے کی ہمت میں تھی بس روئی جا رہی تھی اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کے زریعے اس کی بے
بسی بیان ہو رہی تھی وہ اتنی بےبس تھی کہ اس کی سمجھ م کچھ بھی نہیں آ رہا تھا وہ بس خاموشی سے روئی جا رہی تھی
His mother's voice came, Fatima, your friend has come. She was lost in herself. Her friend took permission from her mother and came inside her room. She saw Fatima in prayer and sat quietly in one place. Gayi Fatima did not know that Kulsoom had come. She has known Kulsoom since the seventh standard.
اس کی امی کی آواز آئی فاطمہ تمھاری دوست آئی ہے وہ جیسے کھو گئی تھی خود میں ہی کہیں اس کی دوست اس کی امہ سے
اجازت لے لر اندر اس کے کمرے میں آئی اس نے فاطمہ کو نماز میں دیکھا تو خاموشی سے ایک جگہ پر بیٹھ گئی فاطمہ کو
نہیں پتا تھا کہ کلثوم آئی ہے کلثوم کو وہ ساتویں جماعت سے جانتی ہے انھوں نے سکول اور کالج ایک ساتھ پڑھا پر یونیورسٹی
میں وہ دونوں الگ ہو گئیں۔
Kulsoom and Fatima had a very good and deep friendship, they used to talk to each other about everything. After some time, Kulsoom heard the sound of sobs, she woke up and went to Fatima and sat down. After seeing Kulsoom, Fatima was extremely happy and said, "Did you remember?" Yes, I remember, I knew that today your pain will increase
کلثوم اور فاطمہ کی بہت اچھی اور گہری دوستی تھی وہ ایک دوسرے سے ہر بات کرتی تھیں۔ کلثوم کو کچھ دیر میں سسکیوں
کی آواز آئی وہ گبھرا کر اٹھی اور فاطمہ کے پاس جا کر بیٹھ گئی۔اس نے اسے گلے سے لگایا وہ کچھ دیر تک اس کے گلے لگ
کر روتی رہی اس کے بعد جب وہ چپ ہوئی گو اسے بہت دیر کے بعد کلثوم کو دیکھ کر بے حد خوش ہوئی فاطمہ نے کہا کہ کیا
تمھیں یاد تھا؟ ہاں یاد تھا پتا تھا مجھے کے آج تمھاری تکلیف میں اضافہ ہو جاتا ہے
Dude! Fatima looked at Kulsoom with helplessness, it has been four years today! Both went silent for a while, yes I know. No news or information was found, he replied in frustration. They both talked to each other about Hanzla for a long time. Hanzla and Fatima met in the ninth grade, then Fatima was in the ninth grade and Hanzla was in the university.
یار! فاطمہ نے بے بسی کے ساتھ کلثوم کو دیکھا یار آج پورے چار سال ہو گیۓ ہیں! دونوں کچھ دیر کے لیے خاموش ہو گئیں
ہاں مجھے معلوم ہے۔ کوئی خبر ملی یا کسی بات کا پتا چلا نہیں مایوسی سے اس نے جواب دیا۔ وہ دونو بہت دیر تک ایک
دوسرے سے ہنزلا کے بارے میں باتیں کرتے رہے۔ ہنزلا اور فاطمہ نویں جماعت میں ملے تھے تب فاطمہ نویں جماعت میں
اور ہنزلا یونیورسٹی میں تھا ان دونوں کی بات ہوتے ہوئے بات یہاں تک آگئی کہ ان دونوں کو ایک دوسرے سے بے حد محبت
ہو گئی
Now both of them decided to talk about marriage with their family members and when they talked in their homes, instead of listening to them, they raised a lot of issues that you are younger than her. No, and the biggest problem was created by Zaat, fed up with all this, Hanzla decided to meet Fatima's father himself and he was taken to meet him, no one knew what was going on between them. Due to which Hanzla left the country and had no contact with anyone
اب دونوں نے گھر والوں سے شادی کی بات کرنے کا فیصلہ کیا اور جب انھوں نے اپنے گھروں میں بات کی تو کسی نے بھی ان
کی بات کو سننے کی بجائے پہلے ہی بہت سے مسلے کھڑے کر دیے کہ تم اس سے چھوٹی ہو ہماری زات ایک نہیں اور سب
سے بڑا مسئلہ زات کا بنایا گیا اس سب سے تنگ آ کر ہنزلا نے خود فاطمہ کے والد سے ملنے کا فیصلہ کیا اور وہ ان سے ملنے
لے لیے گئے اس بات کا علم کسی کو نہیں تھا کہ ان میں آخر ایسی کیا بات ہوئی جس کی وجہ سے ہنزلا ملک چھوڑ کر چلا گیا
اور اس کا کسی سے بھی کوئی رابطہ نہ تھا
Fatima's father had set a condition for their marriage and Hanzala was fulfilling that condition at all costs because he could not see Fatima as someone else's under any circumstances and that condition was that she would marry someone within four years. He will come back as a child and no matter what happens in these four years, there will be no contact with each other. If they live so far without contact, they will forget each other and according to their promise, they will not have any relationship with Fatima for four years and as soon as the fifth year begins, they will marry her.
فاطمہ کے والد نے ان کی شادی کی ایک شرط رکھی تھی اور ہنزلا وہ شرط ہر حال میں پوری کر رہا تھا کیونکہ وہ کسی بھی
حال میں فاطمہ کو کسی اور کا ہوتا نہیں دیکھ سکتا تھا اور وہ شرط یہ تھی کہ وہ چار سال میں کچھ بن کر واپس آئے گا اور ان
چار سالوں میں چاہے کچھ بھی ہو جائے ایک دوسرے سے کسی قسم کا کوئی رابطہ نہیں ہو گا ہنزلا ان کی یہ شرط مان جاتا ہے
دراصل فاطمہ کے والد حاقان صاحب یہ سوچ رہے تھے کہ اگر وہ ایک دوسرے سے بغیر رابطے کے اتنا دور رہیں گے تو
ایک دوسرے کو بھول جائیں گے اور اپنے وعدے کے مطابق وہ چار سال فاطمہ کا کہیں رشتہ نہیں کریں گے اور پانچواں سال
شروع ہوتے ہی وہ اس کا نکاح کر دیں گے
اس طرح ان کی شرط اقر وعدہ دونوں قائم رہیں گے۔ پر اس سے برعکس ہوا چار سال پورے ہوتے ہی ہنزلا واپس آ گیا اور آتے
ہی سب سے پہلے وہ فاطمہ کے والد کے پاس گیا اس کے والد اسے دیکھ کر حیران رہ گئے انہیں آج یہ بات تو سمجھ آ گئی تھی
کہ وہ غلط کر رہے تھے اور ان کے سارے خیال جو بھی ہنزلا کے متعلق تھے وہ غلط تھے فاطمہ کو اس بات کا اندازہ نہیں تھا
کہ ہنزلا واپس آۓ گا ہنزلا فاطمہ کے والد سے اس سے بات کرنے کی اجازت لیتا ہے اس کے باپ کو اس بات کا یقین ہو جاتا
ہے کہ ہنزلا ہمیشہ ان کی بیٹی کو خوش رکھے گا۔
Hanzala calls Fatima as soon as Hanzala greets her, Fatima starts crying, he knows from her voice that it is Hanzala. Had to prove his love, he apologizes to her for everything. She is happy that he did not leave her. Hanzala comes to Fatima's house to ask for her hand in marriage. Now both their families agree and they Both are also very happy whose love is true and at some point in life they meet
ہنزلا فاطمہ کو فون کرتا ہے جیسے ہی ہنزلا سلام کرتا ہے فاطمہ رونے لگتی ہے اسے اس کی آواز سے ہی پتا چل جاتا ہے کہ
وہ ہنزلا ہے وہ فاطمہ کو ساری بات بتاتا ہے اور اسے کہتا ہے کہ وپ بےوفا نہیں تھا پر اسے اس کی محبت ثابت کرنی تھی وہ
اس سے ہر چیز کی معافی مانگتا ہے۔وہ اس بات سے خوش ہوتی ہے کہ وہ اسے چھوڑ کر نہیں گیا تھا ہنزلا فاطمہ کے گھر اس
کا ہاتھ مانگنے آتا ہے۔اب دونوں کے گھر والے راضی ہوتے ہیں اور وہ دونوں بھی بہت خوش ہوتے ہیں جن کی محبتیں سچی
ہوتی ہیں کسی موڑ پر زندگی کے وہ مل ہی جاتے ہیں
The prayer asked from Allah is not rejected, we just have to keep asking with patience and perseverance. One should not lose heart because despair is disbelief. Fatima did not know that Hanzala would come back, she was just asking without thinking whether he would come or not, she just believed in her God that he would not break her promise and when the time came, God would give it to her. She was desperately asking for Daya Chas
ﷲ سے مانگی ہوئی دعا رد نہیں ہوتی صبر اور استقامت سے ہمیں بس مانگتے رہنا چاہیے۔ ہمت نہیں ہارنی چاہیے کیونکہ
مایوسی کفر ہے۔ فاطمہ کو نہیں معلوم تھا کہ ہنزلا واپس آۓ گا وہ بس مانگ رہی تھی یہ سوچے سمجھے بغیر کے وہ آۓ گا یا
نہیں اسے بس یقین تھا اپنے ﷲ پہ کہ وہ اس کا مان نہیں توڑے گا اور سہی وقت آنے پر ﷲ سے اسے وہ دے دیا چس کی طلب
وہ شدت سے کر رہی تھی
We don't know when our dua will be considered better for us, so we just need to never be disappointed by Allah and keep asking. It is very important to have trust in love, if there is no passion in love, if there is no trust, it cannot achieve success. Passion is essential in love.
ہم نہیں جانتے کہ ہماری دعا ہمارے لیے کب بہتر سمجھی جاۓ گی تو بس ہمیں چاہیے کہ ﷲ کی طرف سے کبھی مایوس نہ ہوں
اور مانگتے رہیں۔ محبت میں اعتبار کا ہونا بہت ضروری ہے جس عشق میں جنون نہ ہو اعتبار نہ ہو اس کی منزل کامیابی نہیں
ہو سکتی عشق میں جنون لازمی ہے۔
0 Comments