Khadija is here constantly thinking to Ayaan, what he is doing, is he also missing her, is he also thinking of her, she is thinking all this and she is smiling thinking about it. She is constantly thinking that her mother is calling her out for dinner, she is coming. She gets up and goes out after saying this. Khadija, Abu is going well, are you studying hard, should you get good marks this time too, Abu, inshallah, you will get good, Abu, good Arian brother, I asked you to bring a book, I forgot to do so after eating my food. Come along and then take whatever you want, well, I'll get ready after eating, then let's go.


خدیجہ یہاں عیان کو مسلسل سوچ رہی ہے کہ وہ کیا کر رہا ہو گا کیا وہ بھی اسے یاد کر رہا ہو گا وہ بھی اسے سوچ رہا ہو گا وہ یہ

 سب سوچ رہی ہے اور اس کے بارے میں خیال کر کے وہ مسکرا رہی ہے وہ مسلسل اسی کو سوچی جا رہی ہے اس کی امی اسے

 باہر کھانے کے لیے بلاتی ہیں آتی ہوں امی وہ یہ کہہ کر اٹھ کر باہر جاتی ہے اور کھانے کی میز پر جا بیٹھتی ہے وہ (ام ایس)  کی

 سڈودنٹ ہے کیسی جا رہی ہے پڑھائی خدیجہ جی ابو اچھی جا رہی ہے سہی سے پڑھ رہی ہو نا اچھے نمبر آنے چاہیے اس بار بھی

 جی ابو انشاﷲ اچھے آئیں گے ابو اچھا آریان بھائی آپ سے ایک کتاب کا کہا تھا آپ لاۓ میں بھول گیا ایسا کرو کہ کھانا کھانے کے

 بعد میرے ساتھ چلو اور پھر لے لو جو بھی چاہیے اچھا میں کھانے کے بعد تیار ہو جاتی ہوں پھر چلتے ہیں 


             She gets ready after eating and they both go to get her book. Brother, I want to drink juice too. Well, let's drink it too. After getting the book, they both stop at a juice corner and drink juice. Ayan is the only son of his parents. Ayan and Khadija met in university and since then Khadija likes him very much. Ayan is the most popular boy in the entire university. Girls die for him but he doesn't talk to anyone. He is a very quiet and low-key guy.


وہ کھانے کے بعد تیار ہو جاتی ہے اور وہ دونوں اس کی کتاب لینے چلے جاتے ہیں بھائی میں نے جوس بھی پینا ہے اچھا چلو

 وہ بھی پی لیتے ہیں کتاب لینے کے بعد وہ دونوں ایک جوس کورنر پر رک کر جوس پیتے ہیں وہ یہ سوچ رہی ہوتی ہے کہ

 کبھی وہ عیان کے ساتھ ایسے ہی باہر آیا کرۓ گی عیان اپنے ماں باپ کا اکلوتا بیٹا ہے عیان اور خدیجہ یونیورسٹی میں ملے

 تھے اور تب سے خدیجہ اسے بہت پسند کرتی ہے عیان پوری یونیورسٹی کا مشہور ترین لڑکا ہے پوری یونیورسٹی کی لڑکیاں

 اس پہ مرتی ہیں پر وہ کسی سے سے بات نہیں کرتا وہ بہت ہی خاموش تبا اور کم گو لڑکا ہے اس کا بس ایک ہی دوست ہے 


                 Why does the person with whom he lives in the university have such a temperament? Why is he so quiet? Why doesn't he talk to anyone? Why is he so lonely? No one is aware of this till date, no one knows why he is like that. In the morning, when Khadija goes to the university, she has a problem in some subject. She goes to her professor to tell her that she has a problem in some subject. They call Ayan. Ayan comes. Yes sir ok I will see come let me explain to you Khadija's happiness is not abode he explains to her and she is just looking at him.


جس کے ساتھ وہ یونیورسٹی میں رہتا ہے اس کی ایسی طبیعت کیوں ہے؟ وہ اتنا خاموش کیوں رہتا ہے وہ کسی سے بات کیوں

 نہیں کرتا وہ اتنا اکیلا کیوں رہتا ہے؟ اس بات سے آج تک کوئی بھی واقف نہیں کوئی بھی نہیں جانتا کہ وہ ایسا کیوں ہے؟ صبح

 جب خدیجہ یونیورسٹی جاتی ہے تو اس کو کچھ سبجیکٹ میں مسلہ تھا وہ اس سلسلے میں اپنے پروفیسر کے پاس جاتی ہے کہ

 اسے کچھ سبجیکٹ میں مسلہ ہے وہ عیان کو بلاتے ہیں عیان آتا ہے عیان اس کو کچھ مسلہ ہے اس سے وہ حل کروا دو جی سر

 ٹھیک ہے میں دیکھ لیتا ہوں آئیں میں آپ کو سمجھا دیتا ہوں خدیجہ کی خوشی کا ٹھکانہ نہیں ہوتا وہ اسے سمجھاتا ہے اور وہ

 بس اسے دیکھ رہی ہوتی ہے 


man she is so cute she is telling all this to her friend her friend tells her try to befriend him she follows her advice she befriends him there comes a time she They become very good friends. He tells her everything now. One day they both sit and talk like this.


یار وہ اتنا پیارا ہے وہ اپنی سہیلی کو یہ سب بتا رہی ہوتی ہے اس کی سہیلی اسے کہتی ہے کہ تم اس سے دوستی بڑھانے کی

 کوشش کرو وہ اس کی اس بات پر عمل کرتی ہے وہ اس سے دوستی بڑھاتی ہے ایک وقت آتا ہے وہ بہت اچھے دوست بن

 جاتے ہیں وہ اس سے اب ہر بات بتاتا ہے وہ ایک دن دونوں بیٹھے یوں ہی باتیں کر رہے ہوتے ہیں خدیجہ اسے کہتی ہے 



That I want to tell you something that I have never been able to tell you because of the fear that you might not leave me and I will lose your friendship. Ayaan, I have also hidden something from you. Khadijah feels that Ayaan also wants to tell her what she wants to tell him. I didn't tell you because of the fear that you might not leave me, so she extends her other hand towards him and says


کہ عیان میں تمھیں کچھ بتانا چاہتی ہوں جو میں تمھیں کبھی نہیں بتا پائی اسی ڈر سے کہ کہیں تم مجھے چھوڑ نہ دو اور میں

 تمھاری دوستی سے بھی ہاتھ دھو بیٹھوں خدیجہ یہ کہ کر وہ سر جھکا لیتا ہے اور چپ ہو جاتا ہے کیا ہوا عیان میں نے بھی تم

 سے کچھ چھپایا ہے اسی ڈر سے خدیجہ کو لگتا ہے کہ عیان بھی اسے وہی کہنا چاہتا ہے جو وہ اسے کینا چاہتی ہے وہ اس کا

 ہاتھ تھامتے ہوۓ اس اے کہتا ہے اگر میں تمہیں کچھ ایسا بتاؤں جو میں نے آج تک اس ڈر سے تمہیں نہیں بتایا کہ کہیں تم بھی

 مجھے چھوڑ نہ دو تو وہ اس کی طرف دوسرا ہاتھ بڑھاتی ہے اور کہتی ہے


Whatever you want to say, tell me openly, I promise you, I will never leave your side. Don't you believe in me? If I didn't believe in you, I would never talk to you. Come on, if you really believe, tell me what you want to say. You know why Khadijah stays so far away from people. No, I don't know about that, I tried to ask you many times, Nagar, you never told me. I was five years old when my mom and dad had a big fight over something


تم جو بھی کہنا چاہتے ہو مجھ سء کھل کے کہو میں تم سے وعدہ کرتی ہوں میں کسی حال میں بھی تمہارا ساتھ نہیں چھوڑوں

 گی کیا تمھیں مجھ پہ یقین نہیں ہے مجھے اگر تم پہ یقین نہ ہوتا میں کبھی بھی تم سے بات نہ کرتا اچھا چلو اگر واقعی تمہیں

 یقین ہے تو بتاؤ کیا کہنا چاہتے ہو تمہیں پتا ہے خدیجہ میں لوگوں سے اتنا دور کیوں رہتا ہوں کیوں کسی سے زیادہ بات نہیں

 کرتا کسی کے ساتھ زیادہ دیر تک بیٹھتا نہیں۔ نہیں مجھے اس بات کا نہیں پتا تم سے پوچھنے کی کئی بار کوشش کی نگر تم نے

 کبھی بتایا ہی نہیں۔ میں پانچ سال کا تھا جب میری امی اور بابا کا کسی بات پر بہت زیادہ جھگڑا ہو گیا 


And in anger mom killed herself dad took me far away I still remember that day well even though I was very young dad could never forgive himself for what happened when I was fifteen Baba also passed away. I was left alone. There was no one of my own. I started getting angry, I didn't want to talk to anyone, I was used to being alone


اور غصے میں امی نے خود کو ہی مار لیا بابا مجھے لے کر بہت دور آ گئے مجھے آج بھی وہ دن اچھی طرح سے یاد ہے

 حالانکہ میں بہت چھوٹا تھا بابا کبھی خود کو اس چیز کے لیے معاف نہیں کر سکے جب میں پندرہ سال کا تھا تو بابا کا بھی

 انتقال ہو گیا میں اکیلا رہ گیا کوئی نہیں تھا میرا اپنا کوئی نہیں تھا  ایسا جو مجھے سہارا دیتا مجھے سمجھتا جس سے میں اپنا

 دکھ بانٹ سکتا پھر میں سنگدل ہو گیا نجھے لوگوں سے وہشت ہونے لگی لوگوں کو دیکھ کر میں چڑنے لگا نیرا دل نہیں کرتا

 تھا کہ میں کسی سے بھی بات کروں مجھے اکیلا رہنے کی عادت ہو گئی تھی 


I have never been friends with anyone for fear that if he finds out that my mother committed suicide and I am an orphan, he will take advantage of me and I didn't want that. It was a long time since I saw happiness. One day you came into my life, who taught me to live again, who taught me to laugh again. Good man, I wanted to tell you all this a long time ago, but for fear of losing you, I was never able to tell you.


دوستی بھی کبھی نہیں رکھی کسی سے اسی ڈر سے کہ اگر اسے پتا چلا کہ میری امی نے خود کشی کر لی اور م لاوارث ہوں تو

 وہ نیرا فائدہ اٹھاۓ گا اور میں یہ نہیں چاہتا تھا مجھے تو خوشیاں دیکھے ہوئے بھی عرصہ گزر گیا تھا پھر ایک دن میری

 زندگی میں تم آئی جس نے نجھے پھر سے جینا سیکھایا جس نے پھر سے ہنسنا سیکھایا مجھے میں تو بلکل بےمعنی سی زندگی

 گزار ریا تھا ایسی زندگی جس کا کوئی مقصد ہی نہ ہو کوئی چاہ ہی نہ ہو تم نے مجھے پھر سے ایک اچھا انسان بنایا میں تمہیں

 یہ سب بہت پہلے بتانا چاہتا تھا پر تمہیں کھو نہ دوں اس ڈر سے کبھی بتا ہی نہیں پایا ا وہ یہ سب بتاتے ہوئے زارو کتار رو رہا

 تھا اور خدیجہ بھی رو رہی تھی




She looked at him and said that you suffered so much alone and never let anyone know what storm is inside you. No matter what happens, everything will change. I will not change. I will never leave you alone. I will support you till my last breath. Khadija complains that the family is very happy, then Khadija talks to her mother to marry Ayaan and within a few days they get engaged and Khadija keeps her promise and never leaves Ayaan. .


وہ اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولی اتنی تکلیفیں اکیلے جھیلیں اور کبھی کسی کو خبر تک نہیں ہونے دی کہ تمہارے اندر کیا

 طوفان بھرپا ہے میں تم سے بہت پیار کرتی ہوں اور میں تم سے اس بات کا وعدہ کرتی ہوں وقت حالات کیسے بھی ہوں زندگی

 میں کچھ بھی ہو جائے سب بدل جائیں میں نہیں بدلوں گی میں تمھیں کسی حال میں اکیلا نہیں چھوڑوں گی اپنی آخری سانس تک

 تمہارا ساتھ دوں گی تم سے اتنا پیار کروں گی کہ تم اپنی زندگی کے سارے دکھ بھول جاو گے وہ دونوں پوری یونیورسٹی میں

 ٹوپ کرتے ہیں خدیجہ کہ گھر والے بہت خوش ہوتے ہیں تب خدیجہ عیان سے شادی کے لیے اپنی امی سے بات کرتی ہے اور

 کچھ ہی دنوں میں ان کی منگنی ہو جاتی ہے اور خدیجہ اپنے وعدے پر پکی رہتی ہے اور عیان کا ساتھ کبھی نہیں چھوڑتی۔