ناممکن سے ممکن تک کا سفر
- Time is never the same (وقت کبھی ایک سا نہیں رہتا)-2023
- (عشقِ حقیقی) True Love
- Every rise has a fall (ہر عروج کو زوال آتا ہے)
He was sitting on the roof smoking a cigarette and was thinking that what she wants, what she knows how to do, he did not understand why he could fall in love with such a girl, how could he be so selfish. And such an egotistical girl who doesn't care about anyone else's thoughts except her own, she only loves herself. He called her but she didn't pick up maybe she didn't want to talk to him she was still hurt by his act but he was bearing it.
وہ چھت پر بیٹھ کر سیگریٹ پی رہا تھا اور ابھی یہ سوچ رہا تھا کہ آخر وہ چاہتی کیا ہے وہ کرنا کیا جاہتی ہے اس کی سمجھ
میں نہیں آ رہا تھا وہ کیوں ایسی لڑکی سے محبت میں کیسے پر سکتا ہے وہ کیسے اتنی خود گرز اور اتنی انا پرست لڑکی سے
جس کو اپنی زات کے سوا کسی دوسرے کے جزبات خیالات سے کوئی فرق ہی نہیں پڑتا اسے صرف اپنے آپ سے محبت ہے
وہ کیوں ہے ایسی اسی سوچ میں رات گزر جاتی ہے وہ ابھی بھی اس سے بات کرنے کے لیے اس نے اسے فون کیا مگر اس
نے نہیں اٹھایا شاید وہ اس سے بات ہی نہیں کرنا چاہ رہی تھی وہ ابھی بھی اس کی یہ حرکت بہت تکلیف دے رہی تھی پر وہ
برداشت کر رہا تھا
Thinking that sometimes she will realize her mistakes and sometimes she will regret that she made a mistake but Hanan forgot that she can never change the parents who did not give birth to her but their lives. Loved her full of love risked everything to fulfill her one wish She couldn't be his How could she be his He had known her for six years Loved her so much He never left her side in the big time, how could he leave her side now, but now Pakeezah's actions are getting out of bounds.
یہ سوچ کر کہ کبھی تو اسے اپنی غلطیوں کا احساس ہو گا کبھی تو وہ افسوس کرۓ گی کہ اس سے غلطی ہوئی ہے پر حنان یہ
بھول گیا تھا کہ وہ کبھی نہیں بدل سکتی وہ ماں باپ جنہوں نے بےشک اسے پیدا نہیں کیا پر اپنی جان سے بھر کر اسے پیار
کیا اس کی ایک خواہش پوری کرنے کے لیے ہر چیز داو پہ لگا دی وہ ان کی نہ ہو سکی وہ اس کی کیسے ہو سکتی ہے وہ اس
کو چھ سال سے جانتا تھا اس سے بہت پیار کرتا تھا اس کے اچھے بڑے وقت میں کبھی اس کا ساتھ نہیں چھوڑا وہ اب اس کا
ساتھ کیسے چھوڑ سکتا تھا پر اب پاکیزہ کی حرکتیں حد سے برھتی جا رہی ہیں
Now she has started doing intolerable acts, she herself incites Hanan to misbehave with her and feels bad for Hanan to stop her from doing something bad. The attitude was the same, she didn't talk to anyone, none of her friends could spend time with her for long, she would leave him in no time, now she had no friends. No one liked to talk to him anymore because of his manners and attitude
اب وہ نا قابل برداشت حرکتیں کرنے لگی ہے وہ حنان کو خود اکساتی ہے کہ وہ اس سے بدتمیزی کرۓ اور حنان کا اسے کسی
بری بات سے روکنا اسے برا لگتا ہے وہ خنان کے علاوہ اور لوگوں سے بھی بات کرتی تھی پر اس کا سب کے ساتھ روایہ
ایسا ہی تھا وہ کسی سے بھی سہی سے بات نہیں کرتی تھی اس کی کوئی دوست بھی زیادہ دیر تک اس کے ساتھ وقت نہیں گزار
سکتی تھی وہ کچھ ہی عرصے میں اسے چھوڑ جاتی تھی اب اس کا کوئی دوست نہیں تھا اس کے ایسے اخلاق اور رویہ کی
وجہ سے کوئی بھی اس کے ساتھ اب بات کرنا پسند نہیں کرتا تھا
When she was completely alone, then she needed the one whom she had left. Now Ta Hanan was also used to these actions of Pakeezah, but slowly she started to fall from his heart, now he loved her. But now his love did not have that intensity, he is now tired of these daily spectacles, he also starts to get tired of his behavior, a girl who loved Hanan since childhood is in Hanan's heart Hanan was starting to make space for herself, and Hanan was also enjoying spending time with her. In her ego and anger, Pakeezah had lost Hanan and she had no idea what she was doing.
وہ جب بلکل اکیلی رہ گئی تو پھر اسے اسی کی ضرورت پڑی جسے وہ چھوڑ گئی تھی اب تع حنان بھی پاکیزہ کی ان حرکتوں
کا عادی ہو چکا تھا پر آہستہ آہستہ وہ اس کے دل سے اترنے لگی تھی اب وہ اس سے پیار تو کرتا تھا پر اب اس کے پیار میں
وہ شدت نہیں تھی وہ بھی اب ان روز کے تماشوں سے تنگ آ چکا ہوتا ہے وہ بھی بے زار ہونے لگتا ہے اس کے اس رویے
سے ایک لڑکی جو حنان کو بچپن سے پسند کرتی تھی وہ حنان کے دل میں اپنے لیے جگہ بنانے لگی تھی حنان کو بھی اس
کے ساتھ وقت گزارنا اچھا لگنے لگا تھا اپنی انا اور غصے میں پاکیزہ حنان کو کھو چکی تھی اور اس کو اس بات کا اندازہ بھی
نہیں تھا کہ وہ کیا کر بیٹھی ہے
Hanan is sitting on the roof and his phone rings. Laiba's phone comes. He picks up the phone. Hanan, come down from the jalari. Let's go somewhere. The weather is very pleasant. Let me be. My heart is not beating. Hanan, come, what day am I? Roz says please come, let's come, yes, I am coming, be patient, he is coming down, let's go now, where to go, let's just keep going, okay, let's go, they both go out at around eleven o'clock at night. Hanan still remembers Pakiza but now he doesn't want to remember her
حنان چھت پر بیٹھا ہے اور اس کا فون بجتا ہے لائبہ کا فون آتا ہے وہ فون اٹھاتا ہے حنان جلری سے نیچے آو کہیں چلتے ہیں
موسم بہت مزے کا ہے یار رہنے دیتے ہیں میرا دل نہیں کر رہا حنان آ جاو نا میں کون سا روز روز کہتی ہوں پلز آ جاو اچھا
چلو آتا ہوں ہاں آ رہا ہوں یار صبر تو کرو وہ نیچے آتا ہے چلو اب کہاں جانا ہے بس یوں ہی کہیں چلتے ہیں اچھا چلو ٹھیک ہے
چلو وہ دونوں رات کو تقریباً گیارہ بجے کے وقت باہر جاتے ہیں ابھی بھی حنان کو پاکیزہ یاد آتی ہے پر اب وہ اسے یاد کرنا
نہیں چاہتا اچھا ہم جا کہاں رہے ہیں
Hey, I'm not kidnapping you, don't worry, I'll bring you home safely. It's fine. It's fine. He's just sitting quietly thinking how much he loves me without any intention of killing me. Is it not a violation of him that he does not get love in return for love, he goes into this deep thought Hanan Hanan Hanan. Yes, yes, nothing happened, where did you get lost, nothing, just tell me what happened, we are going out of the car, but you keep your eyes closed until I tell you to open it. He goes out and closes his eyes
ارے میں تمہیں اغوا نہیں کر رہی تم پریشان نہ ہو سہی سلامت گھر پہنچا دوں گی تمہیں اچھا اوکے ٹھیک ہے۔وہ خاموشی سے
بس بیٹھ کر یہ سوچ رہا ہوتا ہے کہ کتنا پیار کرتی ہے یہ مجھ سے بغیر کسی غرض کہ مجھ پہ جان وارتی ہے کیا یہ اس کے
ساتھ زیادتی نہیں ہے کہ اسے پیار کے بدلے میں پیار نہ ملے وہ اس گہری سوچ میں پر جاتا ہے حنان حنان حنان۔۔۔۔۔۔ ہاں ہاں کیا
ہوا کچھ نہیں ہوا تم کہاں کھو گۓ تھے کچھ نہیں بس یوں ہی تم بتاؤ کیا ہوا اچھا ابھی ہم باہر جا رہے ہیں گاڑی سے پر تم تب
تک آنکھیں بند رکھنا جب تک میں کھولنے کا نہ کہوں ٹھیک ہے جناب جو حکم آپ کا وہ باہر نکل کر آنکھیں بند کر لیتا ہے
And Laiba holds her hand and says come on, he starts walking with her support, tell me where are you going, just tell me, you will find out, ok, they stop at a place, and Laiba looks at the clock. Now you open your eyes As soon as Hanan opens his eyes he is surprised Surprise happy birthday Hanan, Laiba has invited all his old friends for Hanan's birthday today, whom they have not met for years. She is very happy to see all this Laiba tells him
اور لائبہ اس کا ہاتھ پکر کر کہتی ہے چلو وہ اس کے سہارے چلنے لگتا ہے لے لر کہاں جا رہی ہو یہ تو بتاؤ بس تم چلو پتا چل
جاتا ہے اچھا اوکے وہ ایک جگہ پر رک جاتے ہیں اور لائبہ گھڑی کی طرف دیکھتی ہے اچھا اب تم انکھیں کھولو جیسے ہی
حنان آنکھیں کھولتا ہے وہ حیران ہو جاتا ہے سرپرائز سالگرہ مبارک ہو حنان، لائبہ نے آج حنان کی سالگرہ کے لیے اب کے
سارے پرانے دوستوں کو بلایا ہوتا ہے جن سے اب انھیں ملے ہوئے سالوں گزر گۓ ہوتے ہیں وہ یہ سب دیکھ کر بہت خوش
ہوتا ہے وہ لائبہ اسے کہتی ہے
Remember, it was all of us who used to spend the whole day together and today, after a long time, we are all together. It all feels good it's great I couldn't imagine that anyone can do all this for me yes Hanan I can do anything for you she starts talking to everyone saying they are all old friends. Together they reminisce about their childhood and are very happy to remember their old days and in the morning they all leave for their homes again.
یاد ہے یہ ہم سب ہی تھے جو سارا سارا دن ساتھ گزارا کرتے تھے اور آج ایک عرصے کہ بعد ہم سب اکھٹے ہوۓ ہیں میرے
خیال سے اس سے بہتر تحفہ شاید آج کہ دن میں اس سے بہتر تحفہ میں تمھیں نہیں دے سکتی تھی کیا تمھیں یہ سب اچھا لگا یہ
بہت اچھا ہے میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ کوئی میرے لیے بھی یہ سب کر سکتا ہے ہاں حنان میں تمھارے لیے کچھ بھی کر
سکتی ہوں وہ یہ کہہ کر سب کے ساتھ بات کرنے لگ جاتی ہے وہ سب پرانے دوست مل کر اپنے بچپن کی باتوں کو یاد کرتے
ہیں اور اپنے ان پرانے دنوں کو یاد کر کے بہت خوش ہوتے ہیں اور صبح ہوتے ہی سب پھر سے اپنے اپنے گھر کو روانہ ہو
جاتے ہیں
Pakiza doesn't even wish Hanan on his birthday yet, but now Hanan probably doesn't even care because tonight he makes a difficult decision about his life. He will never leave Laiba alone and he will never return to Pakiza under any circumstances. Pakiza loses Hanan's love in her ego and stubbornness, and on the other hand, Laiba wins Hanan's love with her love and good manners. Makes a place in the heart. Thus Laiba patiently gets what she never thought she would get and Pakiza in her stubbornness loses all that was hers alone.
حنان کو ابھی تک پاکیزہ اس کی سالگرہ کی مبارک باد تک نہیں دیتی پر اب شاید حنان کو اس بات سے فرق بھی نہیں پڑتا
کیونکہ آج کی رات وہ اپنی زندگی کا مشکل پر سہی فیصلہ کر لیتا ہے وہ یہ طے کر لیتا ہے کہ اب وہ کبھی بھی لائبہ کو اکیلا
نہیں چھوڑے گا اور وہ اب کبھی کسی بھی حال میں پاکیزہ کی طرف نہیں لوٹ کر جاۓ گا پاکیزہ اپنی انا میں اور ضد میں حنان
کی محبت کو کھو بیٹھتی ہے اور دوسری طرف لائبہ اپنی محبت اور خوش اخلاقی سے حنان کے دل میں جگہ بنا لیتی ہے۔ اس
طرح لائبہ صبر سے وہ سب حاصل کر لیتی ہے جو کبھی وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ اسے ملے گا اور اپنی ضد میں
پاکیزہ وہ سب کھو دیتی ہے جو صرف اس کا تھا۔
0 Comments