Wishing you love
She is longing to talk to him, he knows this but is not talking to her. Zahid, why are you not talking to me? I don't want to talk to you, why don't you understand this, but why are you not talking to me, because you know very well why I am not talking to you, but what is my fault in what he did? You are acting as if I had left you, so go now, I don't need anyone. When Nimra's mother comes to the room to pick her up, she is feverish.
تمنائے محبت
وہ اس سے بات کرنے کے لیے ترس رہی ہے وہ یہ بات جانتا ہے پر اس سے بات نہیں کر رہا زاہد آپ مجھ سے بات کیوں نہیں
کر رہے میں تم۔ سے بات نہیں کرنا چاہتا تمھیں یہ بات سمجھ کیوں نہیں آتی پر آپ مجھ سے بات کیوں نہیں کر رہے وجہ تمہیں
اچھی طرح سے پتہ ہے کہ میں تم سے بات کیوں نہیں کر رہا پر جو کچھ اس نے کیا اس میں میرا کیا قصور ہے؟ آپ ایسے کر
رہے ہیں جیسے میں آپ کو چھوڑ کر گئی تھی نہیں گئ تھی تو اب چلی جاؤ مجھے نہیں ضرورت کسی کی بھی وہ یہ کہتے ہی
فون کاٹ دیتا ہے وہ بستر پر منہ کے بل لیٹی روتی رہی ساری رات روتی رہی وہ صبح جب نمرا کو اٹھانے اس کی امی کمرے
میں آتی ہیں تو وہ بخار سے تپ رہی ہوتی ہے
She picks him up and straightens him up, gives him medicine and tells him to sleep and goes out herself. His mother is very worried because of this. In the evening, she goes to Nimra and asks her to tell the truth. Nimra tells Zahid and everything that happened in the night. Her mother shuts her up and says that now she is doing it herself. In the evening, Nimra's mother calls Zahid that I have to talk about something. Come home. Zahid loves his baby very much. When he comes, she makes him sit next to her.
وہ اسے اٹھا کر سیدھا کرتی ہیں اسے دوا دیتی ہیں اور اسے سونے کا کہ کر خود باہر چلی جاتی ہیں اس کی امی اس کی وجہ
سے بےحد پریشان رہتی ہیں انھیں اس بات کا علم ہے کہ نمرا زاہد کو پسند کرتی ہے جو اس کا مامو زاد بھی ہے شام میں وہ
نمرا کے پاس جاتی ہیں اور اس سے ساری بات سچ سچ بتانے کا کہتی ہیں نمرا زاہد اور اپنی رات کو ہوئی ساری بات کا بتاتی
ہے اس کی امی اسے چپ کرواتیں ہیں اور کہتی ہیں کہ اب وہ خود کرتی ہیں شام میں نمرا کی امی زاہد کو فون کرتی ہیں کہ
مجھے کچھ بات کرنی ہے گھر آو زاہد اپنی پھپھو سے بہت شدید محبت کرتا یے جب وہ آتا ہے وہ اسے اپنے پاس بیٹھاتی ہیں
Come here Zahid my child I want to talk to you but I don't know where to start (the thing is that) What you are thinking is averted. While talking to me, she puts a hand of compassion on his head. I know that till today you have not averted anything from me, that's why I am just thinking somewhere for one child and another child. Don't kill me. Zahid understands that he has to talk about Nimra and her. He makes excuses and leaves from there. She is constantly conflicted about how she will respond to Nimra now
یہاں آو زاہد میرے بچے مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے پر سمجھ میں یہ نہیں آ رہا ہے کہ بات کہاں سے شروع کروں(وہ بات
یہ ہے کہ وہ ) زاہد اپنی پھپھو کا ہاتھ پکڑ کر چومتا ہے میں نے آج تک آپ کی کوئی بات ٹالی ہے جو آپ سوچ رہی ہیں مجھ
سے بات کرتے ہوئے وہ اس کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھتی ہیں جانتی ہوں کہ آج تک تم نے کوئی بات نہیں ٹالی میری اسی
لیے تو بس سوچ رہی ہوں کہیں ایک اولاد کے لیے دوسری اولاد کا حق نہ مار دوں زاہد سمجھ جاتا ہے کہ انھوں نے نمرا اور
اس کے بارے میں ہی بات کرنی ہے وہ بہانا لگا کر وہاں سے چلا جاتا ہے نمرا کی امی جو کے زاہد کی پھپھو بھی ہیں سمجھ
جاتی ہیں کہ وہ راضی نہیں ہے پر اب وہ مسلسل اس کشمکش میں ہیں کہ وہ نمرا کو اب کیا جواب دیں گی
After a while Nimra comes down from the upper room. Ami Zahid had come. Did you talk to her (no) gave a short answer and became silent. She quietly went back upstairs. She now understood that she was for him. No, today she doesn't message or call Zahid herself. On the other hand, Zahid also starts to realize that maybe he has started liking Nimra, but he is very confused and doesn't know what to do. Who will tell him and who will understand him for a long time to think that later he decides to go to the dargah
تھوڑی دیر بعد نمرا اوپر والے کمرے سے نیچے آتی ہے امی زاہد آۓ تھے آپ نے ان سے بات کی (نہیں) مختصر سا جواب دیا
اور خاموش ہو گئیں وہ چپ چاپ اوپر واپس چلی گئی وہ اب یہ سمجھ چکی تھی کہ وہ اس کے لیے ہے ہی نہیں آج وہ زاہد کو
خود میسج یا فون نہیں کرتی دوسری طرف زاہد کو بھی یہ احساس ہونے لگتا ہے کہ شاید وہ بھی اب نمرا کو پسند کرنے لگا ہے
پر وہ بہت ہی الجھا ہوا ہے سمجھ میں یہ نہیں آ رہا کہ کیا کرے کس سے کہے اور کون سمجھے گا اسے بہت دیر تک یہ
سوچنے کہ بعد وہ درگاہ پر جانے کا فیصلہ کرتا ہے
He gets up and sits on the dargah. It's a cold winter night and he sits on a bench in his confusion. He still doesn't understand what to do. Now he just starts reading Darood Sharif. He is praying only that my Lord pleases my heart in what is best for me and pleases You, while Nimra is asking Him in prayer (O my Lord, indeed, you are able to perform miracles, my May the Lord soften her heart on my behalf, create love for me in her heart, then open the doors of mercy for me.
وہ اٹھتا ہے اور درگاہ پر جا بیٹھتا ہے سردی کی راتیں ٹھنڈی ہوا چل رہی ہے اور وہ اپنی الجھن میں ایک نکر پر جا کر بیٹھ جاتا
ہے اب بھی اسے سمجھ نہیں آتا کہ وہ کیا کرے وو اب بس درودشریف پڑھنا شروع کر دیتا ہے اب وہ ایک ہی دعا کر رہا ہے
کہ میرے مالک جو میرے لیے بہتر ہے اور تیری رضا ہے اس میں میرے دل کو راضی کر دے ادھر نمرا اسے ہی دعا میں
مانگ رہی ہوتی ہے (اے میرے رب بے شک تو معجزے کرنے پہ قادر ہے میرے رب اس کے دل کو میری طرف سے نرم کر
رے اس کے دل میں میرے لیے محبت پیدا کر دے تو رحمت کے دروازے کھول دے مجھ پر) وہ جانماز پہ ہی سو جاتی ہے
Meanwhile, Zahid gets a call from his friend that the girl whom Zahid loved was a fraud and had robbed many boys. Zahid realizes what is best for him and this is a sign from Allah. Yes, he is very thankful to Allah, He showed him the way that is best for him. In the morning, he gets ready and goes to Nimra's house. What are you doing, my friend? Zahid's mood is very good today
ادھر زاہد کو اس کے دوست کا فون آتا ہے کہ وہ لڑکی جس سے زاہد پیار کرتا تھا فراڈ تھی بہت سے لڑکوں کو لوٹ چکی تھی
زاہد کو سمجھ آ جاتی ہے کہ اس کے حق میں کیا بہتر ہے اور یہ ﷲ کی طرف سے ایک اشارہ ہے وہ ﷲ کا بہت شکر ادا کرتا
ہے اس نے اسے وہ راستہ دیکھایا جو اس کے حق میں بہتر ہے صبح وہ تیار ہو کر نمرا کے گھر جاتا ہے نمرا دروازہ کھولتے
ہی زاہد کو اتنی صبح اپنے دروازے پر دیکھ کر چونک جاتی ہے آپ یہاں کیا کر رہے ہیں یار بندہ سلام ہی کر لیتا ہے زاہد کا
موڈ آج بہت آچھا ہوتا ہے
Because today he gets an answer to all his questions. Where is Phaphu? He asks Nimra with a smile. Mom is on the roof and you tell me how you are. Nimra wonders what happened to Zahid today. Well, let me meet Phaphu and then I will talk to you. Zahid is constantly surprising her with his words. She answers yes, fine. Zahid goes upstairs. How are you? I am fine. My prince. How is your prince today? I am very happy and today I have come to make you very happy too, so tell me quickly
کیونکہ آج اسے اپنے ہر سوال کا جواب مل جاتا ہے پھپھو کہاں ہیں وہ نمرا سے مسکرا کر پوچھتا ہے امی تو چھت پر ہیں سہی
اور تم بتاؤ تم کیسی ہو نمرا حیران رہ جاتی ہے کہ آج زاہد کو کیا کو گیا ہے میں بھی ٹھیک ہوں اچھا چلو میں زرا پھپھو سے مل
لوں پھر تم سے بات کرتا ہوں زاہد اسے حیران کر رہا ہے مسلسل اپنی باتوں سے جی ٹھیک ہے کا جواب دیتی ہے زاہد اوپر چلا
جاتا ہے کیسی ہیں آپ میں ٹھیک ہوں میرا شہزادہ کیسا ہے آپ کا شہزادہ آج بہت خوش ہے اور آج آپ کو بھی بہت خوش کرنے
آیا ہے واقع تو جلدی سے بات بتاؤ
What you wanted to do with me yesterday and couldn't do it, so I give you the answer to this question without asking. Yes, I will marry Nimra and I promise you that I will always keep her happy. After leaving, she tells Nimra everything about yesterday and today. Nimra is very happy. She is very thankful to Allah.And this evening, Nimra's uncle and aunt come for Nimra and Zahid's relationship. Zahid sathat you are Noys to Nimra w happy. Nimra says that today I am as happy as I have ever been. Dili feels happyAnd this evening, Nimra's uncle and aunt come for Nimra and Zahid's relationship. Zahid sathat you are Noys to Nimra w happy. Nimra says that today I am as happy as I have ever been. Dili feels happy.
جو بات آپ کل مجھ سے کرنا چاہتی تھیں اور نہیں کر پائیں تو میں اس بغیر پوچھے سوال کا جواب آپ کو دیتا ہوں جی میں نمرا
سے شادی کروں گا اور آپ سے وعدہ کرتا ہوں اسے ہمیشہ خوش رکھوں گا وہ بہت خوش ہوتی ہیں زاہد کے جانے کے بعد وہ
نمرا کو کل کی اور آج کی ساری بات بتاتی ہیں نمرا بہت خوش ہے وہ ﷲ کا بے حد شکر ادا کرتی ہے
اور آج شام نمرا کے مامو اور مامی نمرا اور زاہد کے رشتے کے لیے آتے ہیں زاہد نمرا سے کہتا ہے اب تم خوش ہو نمرا کہتی
ہے۔
1 Comments
Amazing
ReplyDelete