- DUA KI TAQAAT (دعا کی طاقت ) The power of prayer
- Andhi Muhbat (آندھی محبت) Windy love
Me and him
Do you love her or not? Yes, I love her very much. Then why don't you tell her. If she refuses, then try to talk to her. Yes, my heart trembles and I come back without talking to him. Yes, my brother, try to do it. I have his phone number. I try to talk to him.
Burhan says. He picks up the phone and hears a voice from ahead (ji who) Burhan hangs up without saying anything Ehsan gets very angry, if he didn't have the courage to express himself, then why did he love you, brother, after saying this, they both just sit down.
Today, I will talk to him myself. Because of this, Ehsan also keeps coming to Zainab's house. This evening, Burhan and Ehsan go to Zainab's house to pick up Ehsan's sister. A voice comes from Da, I am coming, brother Burhan feels bad, thinking what will happen now, she comes out fixing her scarf. He is not well for a long time) Hi Allah brother, what happened and who is not well?
Burhan is standing facing here, he is also feeling scared. I don't know who this brother is. He is my very good friend. His name is Burhan If I tell you something, you will believe me. Yes, Ehsan brother, I have avoided anything till today. He loves you very much.
Will you be friends with him? Zainab is lost in thought. I understand, she says after a few moments of silence, but brother Baba Ehsan becomes silent after hearing this and Burhan's heart fills with love for Zainab, he leaves without saying anything.
After some days, Burhan's mother and sisters come to Zainab's house with a relationship. Zainab's father also likes Burhan very much, so they fix the relationship between the two children.
میں اور وہ
تم اس سے محبت کرتا ہے یا نہیں ہاں میں اس سے بہت محبت کرتا ہوں تو پھر اسے بتاتا کیوں نہیں ہے یار اگر اس نے
انکار کر دیا نہیں کرۓ گی تو اس سے بات کرنے کی کوشش تو کر پر میں جب بھی اس کے سامنے جاتا ہوں میرا دل
کانپ اٹھتا ہے اور میں اس سے بات کیے بغیر ہی واپس آ جاتا ہوں ہاں ےو میرے بھائی کوشش تو کر کیا پتہ بات بن
جائے میرے پاس اس کا فون نمبر ہے میں اس پہ بات کرنے کی کوشش کرتا ہوں برہان یہ کہتے ہوئے فون اٹھاتا ہے آگے
سے آواز آتی ہے (جی کون) برہان کچھ بولے بغیر ہی فون بند کر دیتا ہے
احسان کو بہت غصہ آتا ہے اگر نہیں ہے ہمت اظہار کی تو محبت ہی کیوں کی تھی بھائی تو نے یہ کہہ کر وہ دونوں بس بیٹھ
جاتے ہیں آج میں خود اس سے بات کروں گا احسان کی بہن زینب کی بہن کی بچپن کی سہیلی ہے جس کی وجہ سے احسان کا
بھی زینب کے گھر آنا جانا لگا رہتا ہے آج شام برہان اور احسان زینب کے گھر جاتے ہیں احسان کی بہن کو لینے تو احسان کہتا
ہے کہ جاؤ زینب کو بلاؤ کہو احسان بلا رہا ہے
ندا سے آواز آتی ہے آچھا آتی ہوں بھائی برہان کا برا حال ہو جاتا ہے یہ سوچ سوچ کر کہ اب کیا ہو گا وہ اپنے سکارف کو ٹھیک
کرتی ہوئی باہر آتی ہے (اسلام و علیکم بھائی کیسے ہیں آپ میں تو ٹھیک ہوں پر کوئی اور بہت دن سے ٹھیک نہیں ہے) ہاۓ اللہ
بھائی کیا ہوا ہے اور کون ٹھیک نہیں ہے برہان ادھر منہ کیے کھڑا ہے اسے ڈر بھی لگ رہا ہے احسان برہان کی طرف اشارہ
کرتے ہوئے کہتا ہے کہ وہ ٹھیک نہیں ہے زینب بڑی حیرانگی سے پوچھتی ہے کہ بھائی یہ ہے کون میں تو نہیں جانتی اسے یہ
میرا بہت اچھا دوست ہے اس کا نام برہان ہے
میں اگر تمہیں کچھ کہوں تو مانو گی میری بات جی احسان بھائی آج تک کوئی بات ٹالی ہے آپ کی یہ تمھیں بےحد محبت کرتا
ہے کیا تم اس سے دوستی کرو گی زینب سوچ میں پر جاتی ہے احسان اسسے کہتا ہے میں اب اس چپ کو کیا سمجھوں وہ چند
لمحے کی خاموشی کے بعد کہتی ہے پر بھائی بابا احسان یہ سن کر خاموش ہو جاتا ہے اور برہان کے دل میں زینب کے لیے
محبت مزید بھر جاتی ہے وہ کچھ بھی کہے بغیر وہاں سے چلا جاتا ہے۔ کچھ دن کے بعد برہان کی امی اور بہنیں زینب کے گھر
رشتہ لے کر آتی ہیں زینب کے والد کو بھی برہان بہت پسند ہوتا ہے تو وہ دونوں بچوں کا رشتہ طے کر دیتے ہیں۔
Rose flowers
Plant it not like this, it will look good, not like this, he was saying to Mali, he thought she was the one for whom he was planting these flowers. He hears your phone ringing from inside, he runs inside and picks up the phone and says how are you, I was waiting for your phone. I think what happened, why are you crying, did someone say something to you?
Has there been a fight with someone, what has happened, tell you quickly, who has made you cry, she is constantly crying. scolded her, she says in a crying voice, nothing good happens, everyone gets scolded, you stop crying, but they all scolded me in front, it's fine, I understand, now you stop crying, he would explain to her lovingly. Yes, she shuts up. What were you doing?
I was planting flowers for you. You don't like roses. She gets happy. Yes, I like roses. Then they both talk for a long time. The aunt next door is calling you. Well mom is coming, she says to Hazifa that I am coming now.
Huzaifa doesn't like Mehek going to their house but he can't stop her because he has nothing to do with her now so she keeps quiet when he stops her.In the morning when Mehek is going to school, Huzaifa tells her to come out. She says how did you get up at that time. She goes outside to the street while messaging, where Huzaifa is standing all over the road with red roses.
She is very happy seeing all this you have done for me I like it all she is happily saying all this towards Khuzifa as she goes to Khuzifa she sits on her knees. Ho holds out a rose to Mehek and says (will you marry me) Mehek happily shouts yes yes I will marry you yes I will marry you.
گلاب کے پھول
اسے ایسے نہیں ایسے لگاؤ یہ ایسے نہیں ایسے اچھے لگیں گے وہ مالی کو کہ رہا تھا اس کے خیال میں وہی تھی جس کے لیے
وہ یہ پھول لگا رہا تھا۔ اس کو اندر سے آواز آئی کے تمھارے فون بج رہا ہے وہ بھاگتا ہوا اندر جاتا ہے اور فون اٹھاتے ہی کہتا
ہے کیسی ہو مہک میں تمہارے فون کا ہی انتظار کر رہا تھا دوسری طرف سے رونے کی آواز آتی ہے حزیفہ کا دل تیزی سے
دھرکنے لگتا ہے کیا ہوا ہے تمھیں رو کیوں رہی ہو تمھیں کسی نے کچھ کہا ہے کیا؟
کسی سے کوئی لڑائی ہوئی ہے کیا ہوا ہے تمھیں بتاؤ جلدی کس نے رولایا ہے تمھیں وہ مسلسل روئی جا رہی ہوتی ہے مہک بتاؤ
تو سہی ہوا کیا ہے تمھیں مہک مہک وہ چانچ سے سات بار مسلسل ایک ہی سانس میں اس کا نام دہراتا ہے ٹیچر نے ڈانٹا ہے
وہ روتی ہوئی آواز میں کہتی سے اچھا کچھ نہیں ہوتا سب کو ڈانٹ پڑ جاتی ہے تم رونا بند کرو پر انھوں نے سب کہ سامنے ڈانٹا
ہے مجھے اچھا ٹھیک ہے میں سمجھ گیا اب تم رونا تو بند کرو وہ اسے پیار سے سمجھاتا ہے وہ چپ ہو جاتی ہے آپ کیا کر
رہے تھے
میں تمھارے لیے پھول لگوا رہا تھا تمھیں پسند ہیں نہ گلاب کے پھول وہ خوش ہو جاتی ہے ہاں مجھے گلاب کے پھول بہت پسند
ہیں پھر بہت دیر تک وہ دونوں باتیں کرتے رہتے ہیں مہک تمھیں ساتھ والی خالا بلا رہی ہیں باہر سے آواز آتی ہے اچھا امی
آتی
ہوں وہ حزیفہ سے کہتی ہے کہ میں آتی ہوں ابھی۔ حزیفہ کو مہک کا ان کے گھر جانا پسند نہیں ہوتا پر وہ اسے منع بھی نہیں
کر سکتا کیونکہ ابھی اس کا کوئی ایسا تعلق نہیں ہے اس سے کہ وہ اسے روکے ٹوکے وہ اس لیے چپ ہو جاتا ہے۔
صبح جب مہک سکول جا رہی ہوتی ہے تو حزیفہ اسے کہتا ہے کہ باہر آو وہ کہتی ہے کہ اس وقت آپ کیسے اٹھ گۓ وہ میسج
کرتے کرتے باہر گلی کی طرف جاتی ہے جہاں حزیفہ ساری سڑک کو گلاب کے لال پھولوں سے سجائے کھڑا ہوتا ہے وہ یہ
سب دیکھ کر بےحد خوش ہوتی ہے یہ سب آپ نے میرے لیے کیا ہے مجھے یہ سب بہت اچھا لگا وہ خوشی سے یہ سب کہتے
ہوۓ خزیفہ کی طرف بھرتی ہے جیسے ہی وہ خزیفہ کے پاس جاتی ہے وہ گٹنوں کہ بل بیٹھ جاتا ہے ہو ایک گلاب کا پھول
مہک کی طرف کرتے ہوئے کہتا ہے (کیا تم مجھ سے شادی کرو گی) مہک خوشی سے چیخ اٹھتی ہے ہاں ہاں میں تم سے
شادی کروں گی ہاں میں تم سے شادی کروں گی۔
0 Comments