Gain of Love (حاصلِ عشق) The love (محبت) Stories (کہانی)

  • TAMANAIE MUHABAT(تمنائے محبت)  Wishing you love
  • Rohe love (روہے محبت)  
  • DUA KI TAQAAT  (دعا کی طاقت )  The Power of Prayer
  • Andhi Muhbat (آندھی محبت) Windy Love


Gain of Love (حاصلِ عشق)


               I can never love, I can never be loved, she says this to her friend. No, whenever I fall in love, it will be done by asking and anyway, I have to go to a foreign country. I have to study a lot. She reaches home, let's see you in the morning.


میں کبھی بھی پیار نہیں کر سکتی مجھے کبھی پیار ہو ہی نہیں سکتا وہ کہہا لگاتے ہوئے اپنی سہیلی کو یہ بات کہتی ہے ایسے

 نہیں کہتے ماہین وقت کا کچھ پتہ نہیں ہوتا اور محبت کبھی کسی کو پوچھ کر نہیں ہوتی اس کی سہیلی اسے یہ دمجھاتی ہے نہیں

 مجھے جب بھی محبت ہو گی پوچھ کر ہو گی اور ویسے بھی میں نے باہر کے ملک جانا ہے مجھے تو بہت پڑھنا ہے کسی

 اچھے سے مقام تک پہنچنا ہے یہ عشق و محبت کی بےوقوفی کا میرے پاس وقت کہاں ایسے ہی باتیں کرتے کرتے وہ گھر پہنچ

 جاتی ہیں چلو ٹھیک ہے ماہین صبح ملتے ہیں 


                Yes, that's right, God forbid. She is sitting in the window of her room, today she is thinking about all the old things, she does not understand what to do now. She is sitting in love and at that time she is crying about the same things she did. No, for the whole world, there can't be a happier girl than her today, she is suffering, but who knows that today Maheen is starting to feel sorry for herself, she doesn't understand who she will tell and who will understand. It

ہاں ٹھیک ہے اللہ خافظ۔ وہ اپنے کمرے کی کھڑکی میں بیھٹی آج وہ ساری پرانی باتیں سوچ رہی ہوتی ہے اسے سمجھ نہیں آ رہا

 ہوتا کہ اب وہ کیا کرے جو کھبی کہا کرتی تھی اسے کبھی پیار نہیں کرۓ گی کہا کرتی تھی اسے کبھی پیار ہو ہی نہیں سکتا آج

 وہ پیار کر بیھٹی ہے اور اس کے وقت اپنی وہی کی گئی باتیں رلاتی ہیں وہ اسی وقت میں واپس جانا چاہتی ہے جب وہ کہا کرتی

 تھی کہ اسے کبھی پیار ہو ہی نہیں سکتا آج وہ اتنی تکلیف میں ہے پر کوئی اس کی اس تکلیف سے واقف نہیں ساری دنیا کے

 لیے آج بھی اس سے زیادہ خوش مزاج لڑکی کوئی ہو ہی نہیں سکتی وہ تڑپ رہی ہے پر کس کو خبر آج ماہین کو خود اپنے

 حال پہ رحم آنے لگا ہے اسے سمجھ میں نہیں آتا وہ کس سے کہے اور کون سمجھے گا اسے


              She goes to Janmaaz with her helplessness and asks Allah to have mercy on her condition. Now she is no longer a little girl of ninth grade. Now she is a (DSP) Mahin. What is the thing that does not allow Mahin to take China? Hamid Javed, who is the third and most confused son of his parents, who does all his work from the heart, is living a very restless life in a far away country. Even after attaining all, he is alone


 وہ اپنی بے بسی کے ساتھ جانماز پہ جاتی ہے اور اللہ سے اس کے حال پہ رحمت طلب کرتی ہے اب وہ چھوٹی    نویں جماعت

 کی بچی نہیں رہی اب وہ ایک (ڈی ایس پی)  ماہین ہے پر اتنے اونچے مرتبے پر ہونے کے باوجود بھی ایسی کوں سی بات ہے

 جو ماہین کو چین نہیں لینے دیتی کوںمن ہے ایسا جو ہر وقت اس کے دل و دماغ پر سوار رہتا ہے آخر کون؟ دور پردیس میں

 حمید جاوید جو کہ اپنے والدین کا تیسرا اور سب سے سلجھا ہوا بیٹا ہے اپنا سارا کام دل سے کرنے والا بہت ہی بے چین زندگی

 گزا رہا ہے کوئی بے مول سی زندگی جس میں سب ہو پر کوئی مقصد نا ہو زندگی کا جس کی سب حاصل ہونے کے بعد بھی

 اکیلا ہے


           Despite all that, there is no peace in his life Maheen and Hameed met each other in the 10th standard, Hameed lived in the house next to his house, their fathers were very good friends. And while playing together, they fell in love with each other without knowing when they felt that now we should tell the family about this and they thought that their family would understand them. He spoke to his parents, on which both the family refused, saying that they would make the best decision for them, both of them became silent and vowed to themselves that it was no longer anyone's decision. No, it is their will now



 وہ سب ہونے کے باوجود سکون نہیں ہے جس کی زندگی میں ماہین اور حمید دسویں جماعت میں ایک دوسرے سے ملے تھے

 حمید اس کے گھر کے پاس والے گھر میں رہتا تھا دونوں کے والد آپس میں بہت اچھے دوست تھے۔ اور ساتھ میں کھیلتے

 کھیلتے انھیں ایک دوسرے سے کب محبت ہو گئی پتا ہی نہیں چلا جب انھیں لگا کہ اب ہمیں گھر والوں کو یہ بات بتانی چاہیے

 اور ان کا  یہ خیال تھا کہ ان کے گھر والے انھیں سمجھیں گے ان دونوں نے اپنے گھروں میں اپنے والدین سے یہ بات کی جس

 پر دونوں کہ گھر والوں نے انکار کر دیا یہ کہ کر کے وہ ان کے لیے اور بہترین فیصلہ کریں گے وہ دونوں خاموش ہو گئے

 اور یہ خودی سے عہد کر لیا کہ اب کوئی نہیں اور اب کسی کا فیصلہ نہیں اب ان کی مرضی ہے



               Whatever they do they will not disobey their parents but now they will not be able to love anyone so they both decide that they will live their own lives but will not give any place in life and after that Both of them started struggling to improve their future. Both of them used to think of each other many times but they would explain to themselves that it is not possible. Mahin and Hameed have not been in touch for five years.

Gain of Love (حاصلِ عشق) The love (محبت) Stories (کہانی)


وہ جو بھی کریں وہ اپنے والدین کی خلاف ورزی نہیں کریں گے پر اب وہ کسی سے محبت بھی نہیں کر سکیں گے تو ان دونوں

 نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنی اپنی زندگی گزاریں گے پر کسی کو زندگی میں جگہ نہیں دیں گے اور اس کے بعد وہ دونوں اپنے

 مستقبل کو بہتر کرنے کے لیے جدوجہد میں لگ گئے دونوں کو ہی بارہا ایک دوسرے کا خیال آتا تھا پر وہ خود کو سمجھاتے

 کہ اب یہ ممکن نہیں کچھ عرصے بعد ماہین کو پتا چلتا ہے کہ حمید باہر کے ملک چلا گیا ہے اس کا دکھ تازہ ہو جاتا ہے اور وہ

 پھر سے اسی تکلیف کا شکار ہو جاتی ہے پانچ سال سے ماہین اور حمید کا کوئی رابطہ نہیں ہے


              Now his family has also realized their mistake, they have unknowingly abused their children. Hamid has not returned to Pakistan for four years, nor does he talk to anyone in Pakistan. She is not in contact with anyone in her home. She also left the house and shifted to a flat on hearing the news of Hameed going abroad. Mahin's mother calls Mahin, your relationship has come.


  اب تو ان کے گھر والوں کو بھی اپنی غلطی کا احساس ہو چکا ہوتا ہے انھوں نے جانے انجانے میں اپنے بچوں کے ساتھ

 زیادتی کی ہے حمید چار سال سے پاکستان واپس نہیں آیا نہ ہی وہ کسی سے پاکستان میں بات کرتا ہے ماہین بھی چار سال سے

 اپنے گھر میں کسی سے بھی رابطے میں نہیں وہ بھی حمید کے باہر پردیس جانے کی خبر سنتے ہی گھر چھوڑ کر کسی فلیٹ

 میں شفٹ ہو جاتی ہے ان دونوں کے ماں باپ کو ان کی کی گئی حرکت پر شدید افسوس ہوتا ہے پر وہی بات (اب افسوس کا کیا

 فائدہ جب چڑیا چگ گئی کھیت) ماہین کی امی  ماہین کو فون کرتی ہیں ماہین تمہارا رشتہ آیا ہے ماہین یہ سنتے ہی بھرک جاتی

 ہے کتنی دفا کہا ہے آپ کو میں نے شادی نہیں کرنی سمجھ میں نہیں آتی 


                 One thing you people don't understand is that she hangs up the phone while Hameed's family is also constantly trying to contact Hameed. He doesn't want to talk to anyone, his mother talks to him. She explains that we have a strong sense of our mistake, we were wrong, but now we have fixed your relationship with Mahin, just come back once, he is happy to hear this, but after a while, he is in this deep thought. But will Mahin really still love him?



۔آپ لوگوں کو ایک بات سمجھ نہیں آتی یہ کہ کر وہ فون کاٹ دیتی ہے ادھر حمید کے گھر والے بھی مسلسل حمید سے رابطہ

 کرنے کی کوشش میں ہیں نگر وہ کسی سے بات ہی نہیں کرنا چاہتا اس کی ماں اس سے بات کرتی ہے اسے سمجھاتی ہیں کہ

 ہمیں ہماری غلطی کا شدید احساس ہے ہم غلط تھے پر اب ہم نے تمہارا رشتہ ماہین سے طے کر دیا ہے بس تم ایک بار واپس آ

 جاؤ وہ یہ سن کر خوش تو ہوتا ہے مگر کچھ دیر کے بات وہ اس گہری سوچ میں پر جاتا ہے کہ کیا واقعی اب بھی ماہین اس

 سے محبت کرتی ہو گی کیا

Gain of Love (حاصلِ عشق) The love (محبت) Stories (کہانی)


             All that Mahin will marry him in spite of this, he is deeply depressed by this. After four years, he returns to Pakistan and as soon as he arrives, Mahin goes to meet Mahin on the roof of a hotel where Hameed is. He has called her. She stands with her face turned. Hameed calls her in a trembling voice (Maheen). how are you hamid i am fine how are you How can I be? Both are silent for a while. Mahin breaks her silence after a while and says, did you get married? No, I have come back to Pakistan only for marriage. Maheen's eyes fill up, she turns her face and asks in a full voice, from whom?



وہ سب جو ہوا ماہین اس کے باوجود بھی اس سے شادی کرے گی وہ اس بات سے اندر ہی اندر گھٹ  رہا ہوتا ہے وہ چار سال

 کے بعد اب پاکستان واپس آتا ہے اور آتے ہی ماہین سے ملنے جاتا ہے ماہین ایک ہوٹل چھت پر جہاں حمید نے اسے بلایا ہوتا

 ہے منہ ادھر کر کے کھڑی ہوتی ہے حمید اسے کانپتی ہوئ آواز میں بلاتا ہے (ماہین) وہ مر کر اس کی طرف دیکھتی ہے۔

 کیسے ہو حمید میں ٹھیک ہوں تم کیسی ہو؟ میں کیسی ہو سکتی ہوں؟ دونوں تھوڑی دیر کہ لیے خاموش ہو جاتے ہیں۔ ماہین

 تھوڑی دیر کی خاموشی کے بعد اپنی چپ توڑتے ہوئے کہتی ہے تمہاری شادی ہو گئی؟ نہیں شادی کے لیے ہی تو پاکستان

 واپس آیا ہوں ماہین کی آنکھیں بھر جاتی ہیں وہ منہ مور لیتی ہے اور بھری ہوئی آواز میں پوچھتی ہے کس سے؟ 


              Don't make fun (of you) plz I am not making fun of you this is our family's decision you are telling the truth or not believe me then let's go with me to Hameed's house where both the families are gathered for their relationship. Finally, after five years of patience, they find their love


(تم سے) مزاق نہیں کرو پلز میں مزاق نہیں کر رہا یہ ہمارے گھر والوں کا فیصلہ ہے تم سچ کہ رہے ہو نہیں یقین تو چلو میرے

 ساتھ وہ دونوں حمید کے گھر جاتے ہیں جہاں دونوں کے گھر والے ان کے رشتے کے لیے اکھٹے ہوۓ ہوتے ہیں آخر کار پانچ

 سال کہ صبر کے بعد ان کو ان کی محبت مل ہی جاتی ہے