(عشقِ حقیقی) True Love
When a person is tired, breaks down and does not understand anything, no one can help him except his Lord. Can't leave alone He who loves more than seventy mothers puts us to the test but never leaves us alone in this test A boy who is twenty-five years old with beautiful blue eyes and black hair Some time ago he lost his whole family in an accident. He does not know what he will do alone now.
جب انسان تھک جاتا ہے ٹوٹ جاتا ہے اور اس کی سمجھ میں کجھ بھی نہیں آ رہا ہوتا اس کی کوئی مدد نہیں کر سکتا سواۓ اس
کے رب کے ایک وہ واحد زات ہے جو کبھی بھی کسی بھی حال میں کیسے بھی حالات میں اپنے بندوں کو اکیلا نہیں چھوڑ
سکتا وہ ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرنے والا ہمیں آزمائش میں تو ڈالتا ہے پر اس آزمائش میں کبھی اکیلا نہیں چھوڑتا ایک لڑکا
جس کی عمر پچیس سال خوبصورت نیلی آنکھیں کالے س سیاہ بال کچھ عرصہ پہلے ایک حادثے میں اپنا سارا خاندان کھو بیٹھا
ہے اسے نہیں پتا اب وہ اکیلا کیا کرۓ گا
His life had no purpose. A mother he loved more than his life. A father he couldn't imagine living without. A little brother he loved dearly. But he had lost everything in the accident, now he had nothing that he was afraid of losing. He was alone and fearless. My teacher, why one day he thinks that what he is saying is wrong, it was the wealth of Allah.
اس کی زندگی کا کوئی مقصد ہی نہیں رہا ماں جسے وہ جان سے زیادہ پیار کرتا تھا باپ جس کے بغیر وہ جینے کا تصور بھی
نہیں کر سکتا تھا ایک ننھا جان سے پیارا بھائ ایک سمجھنے والی بڑی بہن تقریباً دو مہینے پہلے ایک سفر سے واپسی پر وہ
حادثے میں سب کع کھو شکا تھا اب اس کے پاس کچھ بھی نہیں تھا جسے کھونے سے وہ ڈرتا ہواب وہ اکیلا ہے بے خوف ہے
وہ کہتا ہے کہ یا رب میں ہی کیوں میں ہی کیوں وہ ایک ہی شکایت بار بار کرتا ہے کہ میرے مولا میں ہی کیوں ایک دن اسے
اس بات کا خیال آتا ہے کہ وہ جو کہ رہا ہے وہ غلط ہے وہ اللہ کا ہی مال تھا
And he has returned to Allah. He was now looking for a purpose to live for himself, but he did not understand what he should do. He has two paths, one of evil and one of good. Choosing the Good He chose the way of Allah and His Messenger because he knows that He is the only one who is still with him today. He prays to Allah to help him. Now he fulfills his happiness in the happiness of others. It comes in handy now
اور ﷲ کی طرف ہی لوٹ گیا ہے۔ وہ اب اپنے لیے جینے کا کوئی مقصد تلاش کر رہا تھا مگر اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا
کہ وہ کیا کرۓ اس کے پاس دو راستے ہیں ایک بدی کا اور ایک اچھائی کا وہ بدی کے راستے کو بھی چن سکتا تھا پر اس نے
اچھائی کو چنا اس نے ﷲ اور اس کے رسول کے راستے کو چنا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ وہ ہی واحد ہے جو آج بھی اس کے
ساتھ ہے۔ وہ ﷲ سے اس کی مدد کے لیے دعا کرتا ہے۔ اب وہ دوسروں کی خوشی میں اپنی خوشی کو پورا کرتا ہے یعنی اب وہ
دوسروں کو خوش کر کے خوش ہوتا ہے وہ غریب بچوں کے ساتھ کھیلتا ہے ان کی خواہشات کو پورا کرنے کی کوشش کرتا
ہے بزرگ لوگ جو اب کچھ کام نہیں کر سکتے ان کے کام آتا ہے اب
His life had only one purpose to make everyone happy, he understands the purpose of his life, he now knows that loving God means loving his servants, today he understands that Allah Every love in the world hurts except the love of He now does everything for the sake of Allah. Everyone does it to please A. He loves Allah's creation in every way. A girl has been watching him continuously for a year. She sees that this guy comes every day and eats everyone.
اس کی زندگی کا ایک ہی مقصد ہوتا سب کو خوش رکھنا اسے اپنی زندگی کا مقصد سمجھ آ جاتا ہے اسے اب معلوم ہوتا ہے کہ
خدا سے محبت کا مطلب ہے اس کے بندوں سے محبت کی جاۓ آج اسے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ ﷲ کی محبت کے سوا
دنیا کی ہر محبت تکلیف دیتی ہے۔ وہ اب بس سب ﷲ کی رضا کی خاطر کرتا ہے۔ سب اا کو راضی کرنے کے لیے کرتا ہے۔ وہ
ہر طرح سے ﷲ کی مخلوق سے محبت کرتا ہے۔ ایک لڑکی مسلسل ایک سال سے اس کی یہ چیز دیکھ رہی ہوتی ہے وہ
دیکھتی ہے کہ یہ لڑکا روز آتا ہے سب کو کھانا کھاتا ہے
. Brings toys for children Plays with children Loves everyone Who is this boy? And what does he come here to do everyday, she goes to him one day and says what is your name? who are you? And what do you come here everyday? My name is Haider Ali and I am the servant of Allah and I come here to meet only the servants of Allah. The middle class is the house-dwelling Aaliyah who lives in a house next door
۔
بچوں کے لیے کھیلونے لاتا ہے بچوں کے ساتھ کھیلتا ہے سب سے پیار کرتا ہے آخر یہ لڑکا ہے کون؟ اور یہ روز یہاں کیا
کرنے آتا ہے وہ ایک دن اس کے پاس جاتی ہے اور کہتی ہے آپ کا نام کیا ہے؟ آپ کون ہیں؟ اور روز یہاں کیا کرنے آتے ہیں؟
میرا نام حیدر علی ہے اور میں ﷲ کا بندہ ہوں اور یہاں ﷲ کے بندوں سے ہی ملنے آتا ہوں وہ مختصراً سا جواب دے کر پھر
بچوں کے ساتھ کھیلنے لگ جاتا ہے اس کا یہ رویہ اور یہ انداز لڑکی کو بہت متاثر کرتا ہے وہ ایک مڈل کلاس گھر میں رہنے
والی عالیہ ہے جو پاس ہی کہ ایک گھر میں رہتی ہے
She is the youngest daughter of her parents due to which she is also everyone's darling. Her father fulfills her every wish, ever since she met Haider, she has been thinking about him all the time, and when it is time for Haider to come, she also goes down with the children. She starts playing, now she and Haider talk to each other, often she likes Haider, but she still doesn't know anything about Haider, she doesn't know who Haider is?
وہ اپنے ماں باپ کی سب سے چھوٹی بیٹی ہے جس کی وجہ سے وہ سب کی لاڈلی بھی ہے۔ اس کے والد اا کی ہر خواہش پوری
کرتے ہیں وہ جب سے حیدر سے مل کر آئی ہے اسی کے بارے میں سوچتی رہتی ہے ہر وقت وہ اس کے انتظار میں رہتی جب
حیدر کے آنے کا وقت ہوتا ہے وہ بھی نیچے جا کہ بچوں کے ساتھ کھیلنے لگتی ہے اب وہ اور حیدر ایک دوسرے سے بات کر
لیتے ہیں اکثر اسے حیدر اچھا لگنے لگتا ہے پر وہ ابھی بھی حیدر کے بارے میں کچھ نہیں جانتی اسے نہیں پتا کے حیدر کون
ہے؟
And where did it come from? She talks to her friend about it and her friend tells her that she should either ask him everything herself or express her desire to her father. Maybe her friend is saying that today she goes with the intention that today she will ask Haider about his family and home.
اور کہاں سے آیا ہے؟ وہ اپنی سہیلی سے اس بارے میں بات کرتی ہے اس کی سہیلی اسے کہتی ہے کہ وہ یا تو اس سے سب
پوچھے خود یا اپنے ابو کے سامنے اپنی خواہش کا اظہار کرۓ وہ اس کی اس بات پہ غور کرتی ہے اور اس نتیجے پر پہنچتی
ہے کہ شاید اس کی سہیلی سہی کہ رہی ہے آج وہ ارادہ کر کے جاتی ہے کہ آج وہ حیدر سے اس کے خاندان اور گھر کا سب
پوچھے گی وہ اس سے آج پھر یہی سوال کرتی ہے کہ کون ہو تم اور کہاں سے آۓ ہو ؟
He then smiles and says, Haider, I have come from my home. She does not understand what to do now. She thinks all night about that today she will talk to her father and all his thoughts will disappear. At the end of the day, who is this Haider and where did he come from? She doesn't sleep all night. In the morning, she talks to her father about Haider at the breakfast table and tells about him that she has been seeing him every evening for almost two years. comes and now she is also falling in love with him
وہ پھر مسکرا کر کہتا ہے حیدر ہوں اپنے گھر سے آیا ہوں اسے اب یہ بات بلکل سمجھ میں نہیں آتی کہ وہ اب کیا کرے وہ رات
ساری اس بارے میں سوچتی ہے کہ آج وہ اپنے ابو سے بات کرۓ گی اور اس کیکی ساری ت فشیش کرواۓ گی کے آخر یہ
حیدر ہے کون اور کہاں سے آیا ہے۔وہ ساری رات نہیں سوتی صبح وہ ناشتے کی میز پر اپنے ابو سے حیدر کے بارے میں بات
کرتی ہے اور اس کے بارے میں بتاتی یے کہ وہ تقریباً دو سال سے ہر شام آتا ہے اور اب وہ اس سے پیار بھی کرنے لگی ہے
. His father keeps his hand on his head. Don't worry, I do something. His father asks different people all day about Haider, but no one knows anything about him. They all say the same. We never asked. Then they decide. That when Haider comes today, he will talk to him himself. When Haider comes as usual in the evening, Aaliya's father calls him to greet him and pray that the conversation will start later (Son, I will talk to you frankly, you seem to be from a good family, my daughter likes you and wants to marry you. (You tell me your house and I will come to talk to your elders.)
۔
اس کے ابو اس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کیتے ہیں تم۔ پریشان نہ ہو میں کچھ کرتا ہوں اس کے ابو سارا دن حیدر کے بارے
میں مختلف لوگوں سے پوچھ کچھ کرتے ہیں پر کسی کو بھی اس کے بارے میں کچھ نہیں پتا ہوتا سب یہی کہتے ہم نے کبھی
پوچھا ہی نہیں پھر وہ یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ آج جب حیدر آۓ گا تو وہ اس سے خود بات کریں گے۔ جب شام میں معمول کے
مطابق حیدر آتا ہے تو عالیہ کے والد اسے اپنے پاس بلاتے ہیں سلام دعا کہ بعد بات شروع ہوتی ہے (بیٹا میں تم سے صاف بات
کروں گا اچھے گھر کے لگتے ہو میری بیٹی تمھیں پسند کرتی ہے اور تم سے شادی کرنا چاہتی ہے تم مجھے اپنے گھر کا بتاؤ
میں تمھارے بڑوں سے بات کرنے آؤں گا)
Haider replies (Dear, I respect you from the bottom of my heart. Actually, I don't have anyone in this world anymore. Two years ago, my entire family met with an accident and I am left alone. Now whatever. He is all my God and this creature of his) This thing silences Alia's father. Where do you live? Yes, I live in a flat. He is very impressed by his honesty and good heart and offers his daughter in marriage to him. They go home and tell everything to Aaliya. Aaliya is very depressed that what really happened to her is so bad. His heart I have more respect for Haider.
حیدر جواب دیتا ہے (محترم میں آپ کی دل سے عزت کرتا ہوں دراصل بات یہ ہے کہ میرا کوئی بھی اب اس دنیا میں موجود
نہیں ہے دو سال پہلے میرا پورا خاندان ایک حادثے کا شکار ہو گیا اور میں اکیلا رہ گیا ہوں اب جو بھی ہے وہ سب میرا خدا ہے
اور اس کی یہ مخلوق) یہ بات تو جیسے عالیہ کے ابو کو خاموش کروا دیتی ہے۔ تم کہاں رہتے ہو جی میں ایک فلیٹ میں رہتا
ہوں وہ اس کی سچائی اور نیک دلی سے بےحد متاثر یوتے ہیں اور اس سے اپنی بیٹی سے شادی کی پیشکش کرتے ہیں وہ کہتا
ہے جیسی آپ کی مرضی شاید میرے ﷲ کو یہی منظور ہو گا وہ گھر جا کر عالیہ کو ساری بات بتاتے ہیں عالیہ بہت افسردہ
ہوتی ہے کہ کیا واقعی اس کے ساتھ اتنا برا ہوا ہے۔ اس کے دل۔ میں حیدر کے لیے مزید عزت بھر جاتی ہے۔
When a person blindly believes in Allah and makes himself satisfied with His pleasure, then Allah also creates ease for him from where he cannot imagine, never to feel alone in any situation. Understand, because even when nothing happens, Allah is still there and when everything happens, Allah is still there. You should always believe in His nature. He does not leave you alone. And in the case of a son-in-law, a son to his parents.
جب کوئی انسان ﷲ پہ اندھا یقین کر لیتا ہے اور خود کو اس کی رضا میں راضی کر لیتا ہے تو ﷲ بھی اس کے لیے وہاں سے
آسانی پیدا کرتا ہے جہاں سے وہ سوچ بھی نہیں سکتا کبھی بھی کسی بھی حال میں خود کو اکیلا نہ سمجھو کیونکہ جب کچھ نہیں
ہوتا تب بھی ﷲ ہوتا ہے اور جب سب ہوتا ہے تب بھی ﷲ ہوتا ہے اس کی زات پر ہمیشہ یقین رکھنا چاہیے وہ اکیلا نہیں چھوڑتا
وہ عالیہ کی صورت میں حیدر کو ایک اچھی اور نیک اور حمدرد بیوی عطا کرتا ہے اور داماد کی صورت میں اس کے ماں باپ کو ایک بیٹا۔


-singh-2989625.jpg)
0 Comments