She spends the night wondering why she is the one who doesn't really love her, is she abandoned despite her parents, does everyone only love her elder sister, does she not matter. In this house, is she no more than a trivial thing? Her presence or absence is the same in this house. No one cares what she wants. It hurts. She also has a will. Why doesn't anyone think about anything? She is thinking about all these things. They are only two sisters, but her mother loved her elder sister very much. used to go
وہ رات یہ سوچ رہی ہوتی ہے کہ آخر وہ ہی کیوں کیا اس سے واقعی کوئی پیار نہیں کرتا کیا وہ اپنے ماں باپ کے ہوتے ہوۓ
بھی لاوارث ہے کیا سب بس اس کی بڑی بہن سے ہی پیار کرتے ہیں کیا اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے اس گھر میں کیا وہ ایک
معمولی چیز سے زیادہ کوئی اہمیت نہیں رکھتی ہے اس گھر میں اس کا ہونا یا نا ہونا ایک جیسا ہے کسی کو فرق نہیں پڑتا اس
بات سے کہ وہ کیا چاہتی ہے کوئی نہیں سوچتا اس بارے میں کہ اس کو بھی تکلیف ہوتی ہے اس کی بھی کوئی مرضی ہے
کسی چیز میں کوئی کیوں نہیں سوچتا یہ سب وہ یہ سب باتیں سوچ رہی ہوتی ہے وہ دو ہی بہنیں ہیں پر اس کی امی اس کی بڑی
بہن سے بہت پیار کرتی تھیں اس کی کوئی بات نہیں ٹالی جاتی تھی
At home even if Maryam wanted to go somewhere, she had to ask her sister to go. She has been like princesses since the beginning. She wants a boy from a rich family who has a lot of money. She lets him love her, she doesn't let him fulfill any of her wishes, she scolds him for everything, she doesn't let him breathe China, she is very cruel to him, she objects to his every thing.
گھر میں یہاں تک کہ مریم نے کہیں جانا ہے تو وہ بھی اسے اپنی بہن سے ہی پوچھ کر جانا پڑتا تھا مریم کی خواہش تھی کہ اس
کی شادی ایک اچھے گھر میں ہو جہاں اسے بےحد محبت کرنے والے لوگ ہوں اس کی بڑی بہن مناہل جو کی شروع سے
شہزادیوں کی طرح رہی ہے وہ ایک امیر گھرانے کا لڑکا چاہتی ہے جس کہ پاس بہت پیسہ ہو مناہل مریم سے بہت بری طرح
سے پیش آتی ہے وہ اسے بہت حقیر سمجھتی ہے نہ وہ اس سے خود محبت کرتی ہے نہ ہی وہ کسی کو اس سے محبت کرنے
دیتی ہے وہ اس کی کوئی خواہش پوری نہیں ہونے دیتی اسے بات بہ بات ٹوکتی ہے اسے چین کا سانس نہیں لینے دیتی اس پر
بہت ظلم کرتی ہے اس کی یر چیز پر اعتراض ہوتا ہے
Now Maryam also gets fed up with everything, now she also wants peace and it is possible in two cases either Manahl gets married or Maryam leaves this house. One day, some people come to Manahal for a relationship and they like Maryam, but Manahal beats her a lot. Maryam now prays day and night that she should leave this house soon. The relationship of these two sisters is settled in separate houses. Both of them are very happy, they both get married at the same time, both of them are very happy, they are getting homes according to their wishes.
اسے اب مریم بھی ہر چیز سے تنگ آ جاتی ہے اب وہ بھی سکون چاہتی ہے اور یہ دو ہی صورتوں میں ممکن ہے یا تو مناہل
کی شادی ہو جائے یا مریم اس گھر سے رخصت ہو جائے۔ ایک دن کچھ لوگ مناہل کہ رشتے کے لیے آتے ہیں اور انھیں مریم
پسند آ جاتی ہے اس بات پر مناہل اسے بہت مارتی ہے مریم اب دن رات بس یہی دعا کرتی ہے کہ بس وہ جلدی سے جلدی اس
گھر سے رخصت ہو جائے کچھ ہی عرصے میں ان دونوں بہنوں کا الگ الگ گھروں میں رشتہ طہ ہو جاتا ہے۔ وہ دونوں ہی
بہت خوش ہوتی ہیں ان دونوں کی شادی ایک ساتھ ہی کی جاتی ہے دونوں بہت خوش ہوتی ہیں ان کو ان کی مراد کے مطابق
گھر مل رہے ہوتے ہیں باقی نصیبوں کا پتا تو بس خدا کو ہی پتا ہوتا ہے
Maryam enjoys a very good home. Her husband loves her very much and respects her very much. He fulfills her every wish with all his heart. She behaves very well and obeys everything her father-in-law says. Her obedience wins everyone's heart. With her sincerity and love, she gets a good position in her in-laws. She is loved by everyone.
مریم کو بہت اچھا گھر نلتا ہے اس کا شوہر اس سے بہت محبت کرتا ہے اس کی بہت عزت کرتا ہے اس کی ہر خواہش کو دل
سے پورا کرتا ہے اس سے اس کے سسرال والے بھی بہت محبت کرتے ہیں وہ اپنی نند اور اپنی ساس سے بہت اچھے سے
پیش آتی ہے اور اپنے سسر کی ہر بات مانتی ہے اس کی یہ فرمانبرداری ہی سب کا دل جیت لیتی ہے اس کی مخلصی اور
محبت سے وہ اپنے سسرال میں ایک اچھا مقام حاصل کر لیتی ہے وہ سب سے محبت کرتی ہے۔
On the other hand, the unmarried woman, who has never even spoken to anyone, does not know how to manage relationships. She just wants to rule over everyone. It was the same here but nothing was the same. Once she misbehaved with her mother-in-law as a result of which her husband kept her locked in the room for three consecutive days. did not give her anything to eat and did not allow her to meet anyone.
دوسری طرف مناہل جس نے کبھی کسی سے سہی سے بات تک نہیں کی ہوتی اسے اس بات کی کیا خبر کہ رشتے کیسے نبھاۓ
جاتے ہیں وہ سب پہ بس حکومت کرنا چاہتی ہے وہ چاہتی ہے جیسے وہ اپنے ماں باپ کہ گھر میں سب پہ حکم چلاتی تھی اور
اس کہ حکم کی جی حضوری کی جاتی تھی یہاں بھی ایسا ہی ہو پر یہاں کچھ بھی ویسا نہیں تھا ایک دفعہ اس نے اپنی ساس
سے بدتمیزی کی اس کے نتیجے میں اسے اس کے شوہر نے مسلسل تین دل کمرے میں بند رکھا نہ اسے کھانے کو کچھ دیا اور
نہ ہی اسے کسی سے ملنے دیا اسے اب اس بات کا تو پتا چل گیا تھا کہ جو کچھ وہ پہلے کرتی رہی ہے
She can't do all that here because there is no Maryam here who would silently suffer such cruelty and not say anything. There is no one who cares about her food and drink. One who doesn't listen to him, who constantly imposes his will on him. She could not say anything or do anything, she was so helpless and maybe today she is saddened that she is in this situation.
وہ سب وہ یہاں کسی صورت میں بھی نہیں کر سکتی کیونکہ یہاں کوئی مریم نہیں ہے جو اس جے اتنے ظلم چپ کر کے سہ لے
اور کچھ نہ کہے کوئی نہیں جسے اس کے کھانے پینے کی اس کے فکر ہو یہاں سب اس جیسے ہیں بےرحم ظالم اس کی ایک
نہ سننے والے اس پر مسلسل اپنی مرضی مسلت کرنے والے جو انھیں اچھا لگے گا اسے وہی کرنا ہو گا ہر حال میں آج وہ اس
وقت کو کوس رہی تھی جب اس نے وہ سب زیارتیاں کی تھی اس معصوم پر جو کہ نہ اسے کچھ کہ سکتی تھی نہ کر سکتی
تھی وہ اتنی بےبس تھی اور شاید آج اسی کی آہ لگ گئی ہے اسے کہ وہ اس حال میں ہے سہی کہا گیا ہے
Do the cruelty as much as you can bear, time is never the same, often you cry yourself and those who make others cry. She doesn't want to talk to him, she doesn't want to talk to him anymore
کہ ظلم اتنا ہی کرو جتنا کہ خود برداشت کر سکو وقت کبھی ایک سا نہیں رہتا اکثر خود بھی رو پرتے ہیں اوروں کو رولانے
والے اب وہ اپنے ہر کیے گئے عمل کی معافی مانگنا چاہتی ہے پر اب کسی حال میں بھی مریم اس سے ملنا نہیں چاہتی وہ اس
سے کسی قسم کی بات نہیں کرنا چاہتی وہ نہیں چاہتی کہ اب اس سے اس کا کسی بھی قسم کا
Any contact she is very happy in her home and she also makes her family very happy and takes care of them like her own parents and respects them like she used to do her own parents. Muhammad Ali who is her husband loves her very much now she has forgotten her simple sorrows now she is very happy and in two days she and all her family are going for Umrah and they are like this. She always thanks God for getting her home.
کوئی رابطہ ہو وہ اپنے گھر میں بہت خوش ہے اور وہ اپنے گھر والوں کو بھی بہت خوش رکھتی ہے اور ان کا ویسے ہی
خیال رکھتی ہے جیسے اپنے ماں باپ کا اور ویسے ہی ان کی عزت کرتی ہے جیسے کہ وہ اپنے والدین کی کرتی تھی محمد
علی جو کہ اس کا شوہر ہے اس سے بے حد محبت کرتا ہے اب اسے اپنے سادے دکھ درد بھول گئے ہیں اب وہ بہت خوش ہیں
اور دو دن میں وہ اور اس کے سارے گھر والے عمرے کے لیے جا رہے ہیں اور وہ اس طرح کا گھر ملنے پر خدا کا ہر وقت
شکر ادا کرتی ہے۔



0 Comments